صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 126
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران حدیث زیر باب سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لوگوں سے بچنے کی ہدایت فرمائی۔اول وہ جو محکمات یعنی اصول دین سے توجہ پھیرنے کی غرض سے متشابہات کی توجیہہ ایسے طور سے کرتے ہیں جس سے ان کی اپنی کتابوں کے بیان کی سچائی متشابہات کے ظاہری الفاظ سے ہوتی ہو۔فتن کے معنی اصل مقصود سے توجہ پھیر دی۔ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ کا مفہوم یہ ہے کہ راستی سے ہٹانے کی غرض سے وہ متشابہ آیات کے معنی اپنی کتابوں میں وارد قصوں کے مطابق کرتے ہیں۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو پیشگوئیوں کی تاویل اپنے خیالی تصور و نفسانی خواہش سے کرتے ہیں اور جب وہ پیشگوئیاں ان کے خیال کے مطابق پوری نہیں ہوتیں بلکہ منشاء الہی اور صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو حق قبول کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔دونوں قسم کے لوگوں سے بچنے کا ارشاد ہے۔خطابی نے بھی متشابہات سے ایسی آیات مراد لی ہیں جن سے متعلق ( قبل از وقت) پورا علم حاصل نہیں ہو سکتا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۷) اور وہ انباء الغیب ہیں جن کی حقیقت وقوعہ کے بعد کھلتی ہے۔قرآن مجید میں ایسی خبریں بکثرت ہیں۔بَاب ٢ : وَإِنِي أَعِيْنُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ (آل عمران: ۳۷) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) میں اسے اور اس کی ذریت کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں رکھتی ہوں ٤٥٤٨: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ :۴۵۴۸ عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا که عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا۔معمر نے مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْن ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، زہری نے الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ سعيد بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَا مِنْ مَّوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا نے فرمایا: جو بچہ بھی پید اہوتا ہے تو شیطان اس کو ضرور تکلیف دیتا ہے۔اس لئے وہ شیطان کی تکلیف دینے کی وجہ سے چلا کر روتا ہے۔سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے۔یہ روایت بیان کر کے حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: میں اسے اور اس کی ذریت کو شیطان وَالشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُ صَارِحًا مِنْ مَّسَ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنِّي أَعِيدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ۔رجیم سے تیری پناہ میں رکھتی ہوں۔أطرافه: ٣٢٨٦، ٣٤٣١۔(آل عمران: ۳۷)