صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 128 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 128

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۲۸ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران و آپ کا نام انہوں نے امین رکھا ہوا تھا۔اور آپ نے ان پر تحدی کی کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فيكُم عُمرا (یونس: ۱۷) پھر کیا ضرورت تھی کہ آپ کی نسبت بھی کہا جاتا۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحه ۲۷۱،۲۷۰ باب ۳ : إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أولبِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ (آل عمران: ۷۸) اللہ کا فرمانا: ) وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض میں ایک تھوڑی سی قیمت پر راضی ہوتے ہیں ان کے لئے کوئی بھلائی نہیں لَا خَيْرَ۔اَلِيْمُ (آل عمران: ۷۸) مُؤْلِمٌ لا خَلَاق کے معانی ہیں) ان کے لئے کوئی بھلائی مُوجِعٌ مِنَ الأَلَمِ، وَهْوَ فِي مَوْضِع نہیں۔الیھ کے معنی دردناک۔الور سے مشتق ہے اور یہ لفظ مفعل کے وزن پر ہے۔مُفْعِل۔٤٥٤٩ - ٤٥٥٠: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ :۴۵۴۹ ۴۵۵۰: حجاج بن منہال نے ہم سے بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بْن مَسْعُودٍ رَضِيَ روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے خواہ مخواہ حَلَفَ يَمِينَ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ (جھوٹی قسم کھائی جس کے ذریعہ سے وہ ایک امْرِي مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ مسلمان شخص کا مال لینا چاہتا ہے تو وہ اللہ سے ایسی غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔پھر اِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ اللہ تعالٰی نے اس بات کی تصدیق سے یہ آیت وَايْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَبِكَ لَا خَلَاقَ نازل کی : جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ (آل عمران: ۷۸) إلى قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں ان آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بنُ لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا اور قَيْسٍ وَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا