صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 125 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 125

۱۲۵ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران صحيح البخاری جلد ۱۰ فرماتا ہے : وَمَنْ يُرِدُ أنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيْقَا حَرَجًا كَانَمَا يَضَعَدُ فِي السَّمَاءِ كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ (الانعام : ۱۲۶) اور جسے گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ ( فرمانبرداری کے لئے ) نہایت تنگ کر دیتا ہے۔جیسے کہ وہ بلندی کی طرف چڑھ رہا ہے۔اسی طرح یہ بد عملی عذاب کی صورت میں ان پر ڈالتا ہے جو نہیں مانتے۔آیت مذکورہ بالا میں ہدایت و ضلالت سے متعلق اپنا قانون بیان فرماتا ہے کہ جو شرح صدر سے احکام الہی بجالاتے ہیں وہ ہدایت پاتے ہیں اور احکام کی بجا آوری میں جن کا شرح صدر نہیں ہو تا بلکہ سینہ گھٹ جاتا ہے اور قدم شل ہو جاتے ہیں۔ان کی اپنی بد عملی عذاب کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔متشابہات یعنی ہم معنی آیات کی تیسری مثال یہ دی ہے : وَالَّذِينَ اهْتَدَوا زَادَهُمْ هُدًى وَأَنهُمْ تَقُوبُهُمْ (محمد: ۱۸) اور وہ لوگ جنہوں نے صحیح راستہ پالیا انہیں راہنمائی میں بڑھا دیا اور انھیں تقویٰ عطا کیا، جو اُن کے مناسب حال ہے۔اس سے پہلے آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو سنتے ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں۔أُولَبِكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ) (محمد: ۱۷) یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔یہ آیات بھی متشابہات میں سے ہیں۔يُصَدِق بَعْضُهَا بَعْضًا۔تینوں مثالیں معنا و مفهوماً ایک دوسرے کی مصدق ہیں۔مجاہد کی یہ شرح نہایت صحیح اور بڑی واضح ہے۔متشابہات سے مراد وہ آیات بھی ہیں جو انباء الغیب ( پیشگوئیوں) پر مشتمل ہیں۔جب تک وہ واقع نہ ہو جائیں ان کا صحیح مفہوم واضح نہیں ہوتا اور کج رولوگ اپنے اپنے مطلب کے مطابق ان کی تاویل کرتے ہیں۔وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَةَ إِلَّا اللهُ (آل عمران : ۸) حالانکہ پیشگوئی کا اصل مقصود علم الہی میں ہوتا ہے۔نزول مسیح یاد جال کی پیشگوئی سے متعلق جتنے خیالی ڈھکو سلے تھے وہ امت کے لئے بہت بڑے فتنے کا موجب بن گئے ہیں۔اس بارے میں ہدایت یہ تھی کہ ہم ایسے امور سے متعلق ایمان بالغیب رکھتے ہوئے یہ دعا کرتے رہیں: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران: 9) اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو راستی سے ٹیڑھا نہ ہونے دے جبکہ تو نے ہماری راہنمائی فرمائی ہے اور ہمیں اپنے حضور سے رحمت ( کے سامان ) عطا کر۔تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔آیت فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ (آل عمران:۸) میں زَيع کا جو لفظ آیا ہے اس کے معنی مجاہد نے شک کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۴) زاع کا معنی ٹیڑھا ہوا، راستی چھوڑ کر کجی اختیار کی۔اور ان کے نزدیک الرسخُونَ فِي الْعِلم سے مراد وہ علماء ہیں جنہیں آیت کے صحیح مفہوم کا علم ہوتا ہے اور ان کا یہ وصف بیان ہوا ہے کہ وہ اُولُوا الالباب یعنی بصیرت اور حقیقت شناسا ہوتے ہیں۔ان کی نظر چھلکے نہیں بلکہ مغز پر ہوتی ہے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کبھی ہے وہ فتنہ چاہتے ہوئے اور اس کی تاویل کی خاطر اس میں سے اس کی پیروی کرتے ہیں جو باہم مشابہ ہے۔"