صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 124
صحیح البخاری جلد ۱۰ فَاحْذَرُوهُمْ۔۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران کرتا۔فرماتی تھیں: یہ پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (عائشہ !) جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن کی ایسی آیات کے پیچھے لگتے ہیں جو متشابہ ہوں تو وہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ( اس آیت میں) کیا ہے۔یعنی ان سے بچو۔ريح : مِنْهُ أَيتُ مُحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأَخَرُ مُتَشْبهت : جس کی بعض آیات محکم ہیں۔جو اس کتاب کی جڑ ہیں اور کچھ اور ہیں جو متشابہ ہیں۔مجاہد نے اُم الكتب - ، سے مراد حلال و حرام سے متعلقہ واضح احکام لئے ہیں جو شریعت کی اصل بنیاد ہیں اور متشابہ یعنی متماثل، ایک دوسرے کے ہم معنی امور مراد لئے ہیں، (يُصَدِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا ) جو ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ان کے نزدیک متشابہ کے معنی شبہ والی باتیں نہیں۔کیونکہ قرآن مجید کا سب سے پہلا وصف لا ريب فيه بیان ہوا ہے۔اس میں شبہ والی کوئی بات نہیں۔محکمات اور متشابہات سے متعلق ان کی مذکورہ بالا تفسیر عبد بن حمید نے عبد اللہ بن ابی نجیح کی سند سے نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۴) اور متشابہ سے متعلق جو تین مثالیں دی ہیں وہ ان کی تفسیر کو واضح کرتی ہیں۔وَمَا يُضِلُّ بِه إِلا الْفُسِقِينَ (البقرة : ۲۷) اس سے قبل فرماتا ہے: يُضِلُّ بِه كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا (البقرة: ٢٧) حق بات واضح کرنے کی مثال خواہ چھوٹی بیان کی جائے یا بڑی، مومن حق قبول کرتے ہیں اور کافر اعتراض کر کے اسے رڈ کر دیتے ہیں۔اس حق کے ذریعہ سے اللہ بہتوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے۔یہاں یہ سوال پید اہوتا ہے کہ رب العالمین سے حق نازل ہو اور وہ (الهُدَی) کامل راہنمائی کا دعویٰ کرے پھر اس کے ذریعے سے بہت سے بجائے ہدایت پانے کے گمراہ ہوں، یہ دونوں باتیں بظاہر متضاد ہیں۔اس کی وضاحت آیت وَمَا يُضِلُّ بد إلا الفقین سے کی گئی ہے کہ حق کے ذریعہ سے صرف انہی کو گمراہ کرتا ہے جو احکام الہی کے نافرمان، بد عہد ، تعلقات توڑنے والے اور دنیا میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہوں۔متشابہات کے ضمن میں مزید تشریح کے لئے کتاب البیوع ، باب ۲ تا ۵ دیکھئے۔مجاہد نے متشابہ کا مفہوم بیان کرنے کے لئے یہ ایک مثال دی ہے جو بہت واضح ہے۔دوسری مثال یہ دی ہے: ـلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (يونس: ۱۰۱) سے یہی مضمون سورۃ الانعام میں بھی بیان ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ 2) ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور وہ اس کے ذریعہ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں ٹھہراتا۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : "وہ اس (مثال) کے ذریعہ سے بہتوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعہ سے ہدایت دیتا ہے۔" ام تر وو ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور وہ ان (کے چہروں) پر جو عقل سے کام نہیں لیتے (ان کے دل کی ) پلیدی تھوپ دیتا ہے۔“