صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 123
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۲۳ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران ـلكُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ (آل عمران: ۸) اور جو لوگ راہ راست پر آگئے انہیں راست روی الْمُشْتَبِهَاتِ وَالرسخُونَ فِي الْعِلْمِ میں اور بڑھا دیا اور انھیں تقویٰ عطا کیا۔(فی (آل عمران: ۸) يَعْلَمُونَ تَأْوِيْلَهُ قُلُوبِهِمْ زَیع میں) زنغ" کے معنی شک کے ہیں۔وَيَقُولُونَ مَنَا بِهِ۔(آل عمران: ۸) ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ سے مراد مشتبہات کی پیروی کرنا ہے۔وَالرُّسِخُونَ فِي الْعِلْمِ کے معنی ہیں، وہ اس کی تفسیر جانتے ہیں اور کہتے ہیں، ہم اس پر ایمان لائے۔٤٥٤٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ :۴۵۴۷: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كه يزيد بن ابراہیم تستری نے ہمیں بتایا۔انہوں التُسْتَرِيُّ عَنِ ابْن أَبِى مُلَيْكَةَ نے (عبد اللہ ) ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عن رَضِيَ الْقَاسِمِ بْن مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ سے روایت کی۔وہ فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: وہی ہے جس نے تجھ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ پریه کتاب نازل کی ہے جس کی بعض آیتیں تو ) هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أيت محکم آیتیں ہیں جو اس کتاب کی جڑ ہیں اور کچھ اور (ہیں جو ) متشابہ ہیں۔پس جن لوگوں کے دوو محكمت هُنَّ اُمُّ الْكِتب وَأُخَرُ دلوں میں بجھی ہے وہ تو فتنہ کی غرض سے اور اس متشبهتُ فَلَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ (کتاب) کو (اس کی حقیقت سے) پھیر دینے کے زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ لئے ان آیات) کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو اس الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ إِلَى قَوْلِهِ اُولُوا (کتاب) میں سے متشابہ ہیں حالانکہ اس کی تفسیر الْأَلْبَابِ O (آل عمران: ۸) قَالَتْ قَالَ کو سوائے اللہ کے اور علم میں کامل دستگاہ رکھنے والوں کے (کہ) جو کہتے ہیں (کہ) ہم اس (کلام) رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھتے ہیں (اور جو کہتے ہیں کہ یہ ) سب فَإِذَا رَأَيْتِ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا ہمارے رب کی طرف سے ہی ہے کوئی نہیں جانتا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى الله اور عقلمندوں کے سوا کوئی بھی نصیحت حاصل نہیں