صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 122 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 122

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۲۲ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران حملہ آور ہوں تو تمہارا رب پانچ ہزار سخت حملہ کرنے والے ایسے ملائکہ کے ذریعہ سے تمہاری مدد کرے گا جن کا نشانہ خطا ہونے والا نہیں ہو گا۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ۔مجاہد کے نزدیک مردہ جس سے زندہ انسان پید اہوتا ہے نطفہ ہے، جو بظاہر بے جان معلوم ہوتا ہے۔مجاہد کی یہ تفسیر آیت يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ (الانعام : ۹۲) عبد بن حمید نے بسند عبد اللہ بن ابی نجیح موصولاً نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۳) مردہ اور زندہ نسبتی الفاظ ہیں۔نطفہ کے اندر بھی زندگی ہوتی ہے۔لیکن زندگی کی وہ علامات جو ایک بچے میں پائی جاتی ہیں نطفہ میں نہیں ہو تیں۔اس لئے نطفہ اس کے بالمقابل مردہ تصور کیا گیا ہے۔اسی طرح بے جان مادہ بھی جس سے نطفہ بنا اس کے بالمقابل مردہ ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَ كُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُم يُبيتُكُم ثُمَّ يُحْيِيكُم (البقرة: ٢٩) غرض موت و زندگی کا تصور ایک اضافی تصور ہے۔الْإِبْكَارِ والعَشِئ کے الفاظ جو آیت وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا وَ سَبِّحْ بِالْعَشِي وَالْإِبْكَارِ (آل عمران: ۴۲) میں بیان ہوئے ہیں۔ان کے معنی صبح و شام کے ہیں۔آیت کے معنی یہ ہیں: اپنے رب کو بہت یاد کرو اور اس کی (بہت) نیچ کر و شام کے وقت بھی اور فجر کے وقت بھی۔العش کا وقت زوال سے غروب آفتاب تک اور الانگار صبح و ووردو سویرے کا وقت ہے۔بَاب : مِنْهُ أَيْتَ مُحْكَمْتُ (آل عمران: ۸) اس کی بعض آیات محکم ہیں قَالَ مُجَاهِدٌ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ وَ مجاہد نے کہا: اس سے مراد وہ احکام ہیں جو حلال أخَرُ مُتَشبهت (آل عمران: ۸) يُصَدِّقُ حرام سے متعلق ہیں۔وَ أَخَرُ مُتَشْبهت سے بَعْضُهَا بَعْضًا كَقَوْلِهِ تَعَالَى وَمَا يُضِلُّ مراد وہ احکام ہیں) جو ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وَمَا ية إلا الْفُسِقِينَ (البقرة: ٢٧) وَكَقَوْلِهِ يُضِلُّ بِهَ إِلَّا الْفُسِقِينَ۔یعنی وہ صرف بد عہدوں جَلَّ ذِكْرُهُ وَيَجْعَلُ الإِحْسَ عَلَى الَّذِينَ کو ہی گمراہ ٹھہراتا ہے اور جیسے اللہ جل ذکرہ کا یہ لَا يَعْقِلُونَ (يونس: ۱۰۱) وَكَقَوْلِهِ فرمانا: وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ - وَالَّذِينَ اهْتَدَوا زَادَهُمْ هُدًى وَ الهُم وہ گندگی کو انہی پر ڈالتا ہے جو عقل سے کام نہیں تقويهم (محمد: ۱۸) زنغ (آل عمران: ۸ لیتے اور جیسے اس کا فرمانا: وَالَّذِينَ اهْتَدَوا یعنی ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع:” وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو جبکہ تم مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کیا۔وہ پھر تمہیں مارے گا اور پھر تمہیں زندہ کرے گا۔“