صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 121 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 121

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۲۱ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ : وہ گھوڑے ہیں جو کسی علامت سے نشان شدہ ہوں یا اونی کپڑے کی گرہ پیشانی پر ہو۔خوبصورت اصیل گھوڑوں کو علامت سے ممتاز کیا جاتا ہے۔فرماتا ہے: دین لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَ الْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَاللهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَابِ (آل عمران:۱۵) عورتوں اور بیٹیوں اور سونے چاندی کے محفوظ خزانوں اور خوبصورت گھوڑوں اور مال مویشیوں اور کھیتی باڑی سے متعلق خواہشات کی محبت لوگوں کے لئے خوبصورت شکل میں دکھائی گئی ہے۔یہ دنیوی زندگی کا سامان ہے اور اللہ وہ ذات ہے جس کے پاس نہایت عمدہ ٹھکانا ہے۔المُسَوَّمَةِ کے معنى الرَّاعِيَةُ۔یعنی چراگاہ میں کھلے چھوڑے ہوئے ثوری اور طبری سے مروی ہیں۔اول الذکر نے سعید بن جبیر سے اور ثانی الذکر نے عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابری سے نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۲، ۲۶۳) حضور سے آلِ عمران آیت نمبر ۴۰ کی شرح مقصود ہے۔فَنَادَتْهُ الْمَلَيْكَةُ وَهُوَ قَابِمْ يُصَلِّى فِي الْمِحْرَابِ انَّ اللهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَى مُصَدِنَا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَ سَيْدًا وَ حَصُورًا وَ نَبِيًّا مِنَ الصَّلِحِينَ ملائکہ نے زکریا کو پکارا جبکہ وہ محراب میں کھڑ ا مشغول نماز و دعا تھا کہ اللہ تجھے بچی کی بشارت دیتا ہے جو اللہ کی ایک بات کو پورا کرنے والا ہو گا اور سردار ہو گا اور (گناہوں سے) روکنے والا اور صالحین میں سے نبی ہوگا۔حضور کے معنی عفیف اور دوسروں کو ارتکاب بدی سے روکنے والا۔متی باب ۳ اور مرقس باب میں جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر ہوا ہے اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں کہ وہ بطور تارک الدنیا بیابان میں بودو باش رکھتے تھے اور لوگوں کو ترک گناہ کا وعظ کرتے اور اس کا بپتسمہ دیتے تھے۔حتی کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی ان سے بپتسمہ لیا۔لفظ حضور سے ان کے اسی وصف کا بیان ہے اور لوقا باب ا میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا اور اس کی قبولیت اور بشارت کا ذکر ہے کہ ”تیرے لئے تیری بیوی المشبع کے بیٹا ہو گا۔تو اس کا نام یو حنار کھنا اور تجھے خوشی و خرمی ہوگی اور بہت سے لوگ اس کی پیدائش کے سبب سے خوش ہوں گے۔کیونکہ وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہو گا اور ہر گز نہ ئے نہ کوئی اور شراب پیئے گا اور اپنی ماں کے بطن ہی سے روح القدس سے بھر جائے گا اور بہت سے بنی اسرائیل کو خداوند کی طرف جو اُن کا خدا ہے پھیرے گا۔“ (لوقا باب ۱ : ۱۳ تا ۱۶) الفاظ حَصُورًا وَ نَبِيًّا مِنَ الصَّلِحِيْنَ سے حضرت يحي علیہ السلام کے مذکورہ بالا اوصاف ہی مراد ہیں۔من فَورِهِمْ کے معنی ہیں کہ اُحد کی جنگ میں بدر کے دن کے اپنے غیظ و غضب کے جوش میں آئیں گے۔عکرمہ سے من فَورِهِمْ کے یہ معنی طبری نے بسند داؤد بن ابی ہند نقل کئے ہیں کہ بدر کے دن انہیں جو تکلیف پہنچی تھی اس کے غصہ میں اُحد کے دن نکلے تھے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۳) جنگ اُحد کے تعلق میں فرمایا ہے : بلی إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا وَ يَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ الفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُسَؤْمِينَ (آل عمران: ۱۲۶) ہاں (ضرور کافی ہوں گے ) اگر تم حسد کرو اور تقویٰ اختیار کرو اور وہ (کافر) تم پر جوش و خروش سے (جامع البيان للطبری، تفسیر سورة آل عمران آیت وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَذَا، جزء ۶ صفحه (۳۱)