صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 120
۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران صحیح البخاری جلد ۱۰ ربیون کا مفہوم بھی ابو عبیدہ ہی سے منقول ہے۔ربَّةٌ اور ربة کے معنی جماعت ہیں۔ربونَ كَثِير: الْمَجْمُوع الكَثِيرَةُ - ربّي بھی بطور مفرد استعمال ہوتا ہے۔فرماتا ہے: وَكَائِنْ مِنْ أَبِي قَتَلَ مَعَهُ رِبْيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَ هَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَا ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَكَانُوا وَاللهُ يُحِبُّ الصُّبِرِينَ (آل عمران: ۱۴۷) کتنے ہی نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سی جماعتوں نے (دشمن کا مقابلہ کیا۔جو مصیبتیں انہیں اللہ کی راہ میں پہنچیں، ان سے وہ نہ شکست ہوئے اور نہ کمزور اور نہ درماندہ اور اللہ صابر وں سے محبت رکھتا ہے۔تحشُونَهُمْ کے معنی انہیں لڑائی میں جڑ سے کاٹ رہے تھے۔محولہ آیات کے بعد فرماتا ہے : وَلَقَد صَدَقَكُم اللهُ وَعْدَةَ إِذْ تَحْشُونَهُمْ بِاِذْنِهِ (آل عمران:۱۵۳) اور یقینا اللہ نے تم سے اپنا وعدہ ٹھیک طور پر پورا کر دیا تھا جب تم اس کے حکم سے انہیں مار مار کر ان کی جڑیں کاٹ رہے تھے۔غنی لفظ غاز کی جمع ہے۔یعنی جنگ کرنے والے۔فرماتا ہے : پایهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ أَوْ كَانُوا غُنَّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَا تُوا وَ مَا قُتِلُوا ( آل عمران: ۱۵۷) اے لو گو جو مومن ہو ان لوگوں جیسے نہ ہو جنہوں نے انکار کیا اور اپنے بھائیوں کے متعلق جب وہ ملک میں (جہاد کی غرض سے) سفر کریں یا جنگ کرنے والے ہوں، کہنے لگے : کاش وہ ہمارے پاس رہتے تو وہ نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔غَازِ کی جمع غُزَاةٍ اور غذّی ہے۔یہ قراءت جمہور کی ہے اور تفسیر ابو عبیدہ کی۔اور حسن بصری وغیرہ نے بغیر شد کے غزی پڑھا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۲) سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا۔۔۔۔اس آیت میں نکتب کے معنی ہیں ہم محفوظ رکھیں گے جو انہوں نے کہا۔یہ مفہوم ابو عبیدہ سے مروی ہے۔پوری آیت یہ ہے: لَقَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَ قَتْلَهُمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٌّ وَ نَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ O (آل عمران: ۱۸۲) یعنی ان کا طعنہ اور دولت مندی کا گھمنڈ تاریخ عالم میں محفوظ ہے اور نمونہ عبرت بنایا جائے گا۔ایسا ہی ایک مضمون سورۃ مریم آیت نمبر ۸۰ میں بھی بیان ہوا ہے۔نُزُلاً کے معنی ثواب یعنی بطور بدلہ ہو گا۔اور اس کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مذکورہ بدلہ اللہ کے حضور سے بطور مہمان نوازی ہو گا۔نُزُنی کا لفظ مصدر بمعنی مفعول منزلی ہے اور فاعل ( نَازِل) کی جمع بھی ہے۔جیسا کہ اعشی کے اس مصرعہ أَوْ تَنْزِلُونَ فَإِنَّا مَعْشَر نُزُل میں نُزُلُ - نَازِل کی جمع کے طور پر آیا ہے۔اور لفظ نازل بمعنی نزیل بھی آتا ہے یعنی مہمان۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۶۲) ا ترجمه حضرت خليفته المسیح الرابع : "اللہ نے یقیناً اُن لوگوں کا قول سُن لیا جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں ہم ضرور اسے لکھ رکھیں گے جو انہوں نے کہا اور ان کی انبیاء کی ناحق سخت مخالفت کو بھی اور ہم کہیں گے کہ جلن کا عذاب چکھو۔“