صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 119 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 119

صحیح البخاری جلد ۱۰ 119 ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران ضعف میں کی گئی اور بڑی شان سے پوری ہوئی۔شکا بمعنی گڑھے کا کنارہ۔جیسے شفا التركية ، کنویں کا کنارہ۔فرماتا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءَ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (آل عمران : ۱۰۴) اور تم سب اکٹھے ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ نہ کرو اور اللہ کی وہ نعمت یا در کھو جو تم پر ہوئی کہ تم آپس میں دشمن تھے، اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی۔نتیجہ یہ ہے کہ اس کے احسان سے تم بھائی بھائی ہو گئے۔حالانکہ تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے مگر اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تا کہ تم راہ راست اختیار کر کے ہدایت پاؤ۔اس آیت میں تفرقہ و عداوت کی آگ کو قوم کے لئے ہلاکت کا گڑھا قرار دیا گیا ہے۔جس میں عرب کی قوم گر کر ہلاک ہونا چاہتی تھی اور وہ اخوت و اتحاد کی بدولت اس میں گرنے سے بچائی گئی اور حدیث نبوی میں امت محمدیہ کے ستر سے زائد فرقوں میں بٹ جانے کی جو مشہور پیشگوئی ہے۔اس میں بھی کُلُّهَا فِي النَّارِ کا ذکر ہے کہ وہ تمام فرقے آگ میں ہوں گے إِلَّا وَاحِدَةً سوائے ایک کے ، اس سے مراد بھی تفرقہ ہی کی آگ ہے اور جس ایک فریق کو آگ سے منتقلی کیا گیا ہے وہ افراد امت ہیں جنہوں نے امام وقت کی آواز پر لبیک کہہ کر تفرقہ چھوڑا۔ایک ہاتھ پر جمع ہو گئے اور اسلامی اخوت و اتحاد کو اختیار کیا۔یہ امام وقت ہی وہ حبل اللہ ہے جس کے ہاتھ کو مضبوط پکڑنے کا ارشاد آیت وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ میں ہے۔آسمانی وسیلے کے بغیر کوئی قوم تفرقہ و غضب الہی کی آگ سے نجات نہیں پاسکتی۔امام ربانی ہی حبل اللہ ہے۔امام بخاری نے الفاظ کی شرح سے آل عمران کی اہم آیات کی طرف توجہ دلائی ہے جو امت کے لئے ہر زمانہ میں مشعل راہ ہیں۔یا تبوئی کا مذکورہ بالا مفہوم ابو عبیدہ کی تفسیر ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۱) اور خود قرآن مجید میں یہی بیان ہوا ہے۔فرماتا ہے : وَ اِذْ غَدَوتَ مِنْ أَهْلِكَ تَبَوَى الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ (آل عمران: ۱۲۲) محض جگہ کی تعیین نہیں بلکہ لڑائی کی غرض سے ہر دستہ فوج کے لئے جگہ متعین کرنا اور صف آرائی مراد ہے۔وضاحت کے لئے دیکھئے کتاب المغازی، باب غزوہ احد۔ایک صف بندی وہ تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی اور دوسری قسم کی صف بندی ملائکہ کے ذریعے سے جس کا ذکر آیت ۱۲۶ میں ہے۔(سنن ابن ماجه، کتاب الفتن، باب افتراق الأمم) (سنن الترمذي، أبواب الإيمان، باب ما جاء فى افتراق هذه الأمة ) (سنن ابی داود کتاب السنة ، باب شرح السنة) ترجمه حضرت خلیفته المسیح الرابع: ”اور (یاد کر) جب تو صبح اپنے گھر والوں سے مومنوں کو (ان کی) لڑائی کے ٹھکانوں پر بٹھانے کی خاطر الگ ہوا۔“