صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 118 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 118

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۱۸ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران فَوْرِهِمْ (آلِ عِمْرَانَ : ١٢٦) مِنْ غَضَبِهِمْ جوش میں۔ اور مجاہد نے کہا: يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ يَوْمَ بَدْرٍ۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ يُخْرِجُ الْحَيَّ الْمَيِّتِ سے مراد یہ ہے کہ وہ اس نطفہ سے پیدا (الانعام : ٩٦) النُّطْفَةُ تَخْرُجُ مَيِّتَةً کرتا ہے جو پہلے (بظاہر ) مردہ ہوتا ہے اور اس وَيُخْرِجُ مِنْهَا الْحَيَّ الْإِبْكَارِ آلِ میں سے زندہ پیدا کرتا ہے اور الا نگار کے معنی عمْرَانَ : ٤٢) أَوَّلُ الْفَجْرِ وَالْعَشِيِّ صبح سویرے۔ اور عشق کے معانی سورج ڈھلنے آلِ عِمْرَانَ : ٤٢) مَيْلُ الشَّمْسِ أَرَاهُ ر، (مجاہد کہتے ہیں) میں سمجھتا ہوں سورج ڈوبنے إِلَى أَنْ تَغْرُبَ۔ تک۔ تشریح : ثقہ اور تقيَّةٌ (دونوں مصدر ) ایک ہی ہیں۔ یعنی بچنا، احتیاط کرنا۔ وہی یعنی وقایہ اس سے باب افتعال اتَّقَى يَتَّقِی اور دیگر صیغے ہیں۔ سب میں بچنے اور احتیاط کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ تقوی بھی مصدر ہے۔ اسی مصدر سے فعل امر اتقوا الله اس آیت میں آیا ہے : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقْتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (ال عمران : ۱۰۳) اے وہ جو مومن ہو ! اللہ کی نافرمانی) سے بچو، جیسا کہ بچنے کا حق ہے اور تم پر صرف ایسی حالت میں موت آئے کہ تم پورے فرمانبردار ہو۔ اتَّقُوا الله کے معنی اللہ کی ناراضگی سے بچنے کے بھی کئے جاسکتے ہیں۔ مگر وَ انْتُمْ مُسْلِمُونَ کا قرینہ بتاتا ہے کہ یہاں احکام احکام الہی کی نافرمانی سے بچنے کی تاکید ہے۔ مصدر ثقاة مذکورہ بالا آیت سے قبل بھی وارد ہوا ہے۔ فرماتا ہے : لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَفِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُم تُقبةً وَيُحَدِّرُ اللهُ نَفْسَهُ وَ إِلَى اللهِ الْبَصِيرُ (آل عمران (۲۹) مومن مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ صرف اُن سے پوری طرح بچ کر رہنا تمہارے لیے جائز ہے۔ اور (تم میں سے) جو شخص ایسا کرے اس کا اللہ سے کسی بات میں بھی (کوئی تعلق نہ ہو گا۔ اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔ اور اللہ ہی کی طرف (تمہیں) لوٹنا ہو گا۔ صد کے معنی ہیں سخت سردی۔ یہ تفسیر ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۱) اس سے آیت مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِي هَذِهِ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحِ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ (آل عمران: ۱۱۸) کا مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ کفار جو دین حق کی مخالفت میں خرچ کر رہے ہیں ان کا انجام اس ظالم قوم کا ہو گا جن کی کھیتی سخت سردی سے تباہ ہو گئی۔ یہی مضمون سیاق و سباق ہے اور یہ پیشگوئی مایوس کن حالات ا ترجمه حضرت خليفته المـ المسيح الرابع : ” اس دنیا کی زندگی میں وہ جو زندگی میں وہ جو بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہوا کی طرح ہے جس میں شدید سردی ہو ، وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر (مصیبت بن کر) وارد ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو اور وہ اُسے برباد کر دے۔“