صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 117 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 117

صحيح البخاری جلد ۱۰ 116 - سُوْرَةُ آلِ عمران ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران ثقةً (آل عمران: ٢٩) وَتَقِيَّةٌ وَاحِدٌ تُقْةٌ وَتَقِيَّةُ ایک ہی ہیں، بچاؤ کرنا۔صر کے صر ( آل عمران: ۱۱۸) بَرْدٌ۔شَفَا حُفْرَةٍ معنی ہیں سخت سردی۔شَفَا حُفْرَةٍ کے معنی ہیں ( اللِ (آل عمران : ١٠٤) مِثْلُ شَفَا الرَّكِيَّةِ گڑھے کے کنارے۔جیسے شَفَا الرَّكِيَّةِ کے معنی وَهْوَ حَرْفُهَا تُبَوّى (ال عمران: ۱۲۲) ہیں کنویں کا کنارہ۔تبوٹی کے معنی ہیں کہ لشکر کے لئے تو قرار گاہ تجویز کر رہا تھا۔الْمُسَوّم وہ تَتَّخِذُ مُعَسْكَرًا۔الْمُسَوَّمُ الَّذِي لَهُ سِيمَاء بِعَلَامَةٍ أَوْ بِصُوفَةٍ أَوْ بِمَا كَانَ ہے جس پر کوئی نشانی ہو ، پشم کی یا کسی اور چیز کی۔ربيون جمع ہے، اس کی مفرد رتی ہے۔یعنی ربيون (آلِ عِمْرَانَ: ١٤٧) الْجَمِيعُ ہزاروں ہزار۔تَحْشُونَهُمْ کے معنی ہیں تم انہیں وَالْوَاحِدُ ربّي تَحْشُونَهُمْ (ال) مار مار کر جڑ سے اکھیڑ رہے تھے۔خُذمی کی مفرد عمران: ١٥٣) تَسْتَأْصِلُونَهُمْ قَتْلًا غَازِ ہے یعنی جنگ کرنے والے۔سنكتب ہم غُنَّى (آل عمران: ١٥٧) وَاحِدُهَا ضرور محفوظ رکھیں گے جو انہوں نے کہا۔نُزُلاً غَازِ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا (آل عمران: ۱۸۲) معنی ثواب اور نزل بمعنی ٹھنڈئی بھی ہو سکتا ہے۔نَحْفَظُ۔نُزُلاً (ال عمران: ۱۹۹) یعنی اللہ کی طرف سے اُتارا ہوا۔جیسا کہ تمہارا یہ ثَوَابًا، وَيَجُوزُ وَمُنْزَلٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ کہنا کہ میں نے اسے اُتارا ہے۔اور مجاہد نے کہا: كَقَوْلِكَ أَنْزَلْتُهُ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ کے معنی ہیں بڑے بڑے موٹے تازے خوبصورت گھوڑے اور سعید بن بْنُ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ (آلِ عِمْرَانَ: ١٥) جبیر اور عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابرکی نے کہا: الْمُطَهَّمَةِ الْحِسَانِ۔{ قَالَ سَعِيدُ المُسَوَّمَةِ کے معنی ہیں الرَّاعِيَةُ (یعنی چراگاہ جبيرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ میں کھلے چھوڑ دئے گئے ہوں) اور (سعید) ابن بْنِ أَبْرَى الْمُسَوَّمَةُ الرَّاعِيَةُ۔} وَقَالَ جبیر نے کہا: حضورا کے معنی ہیں جو عورتوں ابْنُ جُبَيْرٍ : وَحَصُورًا (ال عمران : ٤٠) سے بچتا ر ہے اور عکرمہ نے کہا: مِنْ فَوْرِهِمْ کے لَا يَأْتِي النِّسَاءَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ مِنْ معنی ہیں بدر کے دن کے اپنے غیظ و غضب کے یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۲۶۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔