صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 117
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۱۷ ۶۵- کتاب التفسير / آل عمران - سُوْرَةُ آلِ عمران تُقَةً (آلِ عِمْرَانَ : ۲۹) وَتَقِيَّةٌ وَاحِدٌ تُقَةً وَتَقِيَّةُ ایک ہی ہیں، بچاؤ کرنا۔ صر کے صر (آلِ عِمْرَانَ : ۱۱۸) بَرْدٌ۔ شَفَا حُفْرَةٍ معنی ہیں سخت سردی۔ شَفَا حُفْرَةٍ کے معنی ہیں (آل عمران : ١٠٤) مِثْلُ شَفَا الرَّكِيَّةِ گڑھے کے کنارے۔ جیسے شَفَا الرَّكِيَّةِ کے معنی وَهُوَ حَرْفَهَا تُبَوِيٌّ (آلِ عِمْرَانَ : ۱۲۲) میں کنویں کا کنارہ۔ تبوٹی کے معنی ہیں کہ لشکر کے لئے تو قرار گاہ تجویز کر رہا تھا۔ الْمُسَوَّم وہ تَتَّخِذُ مُعَسْكَرًا الْمُسَوَّمُ الَّذِي لَهُ سِيمَاءٌ بِعَلَامَةٍ أَوْ بِصُوفَةٍ أَوْ بِمَا كَانَ ہے جس پر کوئی نشانی ہو، چشم کی یاکسی اور چیز کیا۔ ربيون جمع ہے، اس کی مفرد رتی ہے۔ یعنی ربيون (آلِ عِمْرَانَ: ١٤٧) الْجَمِيعُ ہزاروں ہزار ۔ تَحْشُونَهُمُ کے معنی ہیں تم انہیں وَالْوَاحِدُ رَبِّي تَحْشُونَهُمْ آلِ مار مار کر جڑ سے اکھیڑ رہے تھے۔ مذی کی مفرد عمران: ١٥٣) تَسْتَأْصِلُونَهُمْ قَتْلًا۔ غاز ہے یعنی جنگ کرنے والے۔ سنكتب ہم عُزَّى آلِ عِمْرَانَ : ١٥٧) وَاحِدُهَا ضرور محفوظ رکھیں گے جو انہوں نے کہا۔ نُزُلاً غَازِ ۔ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا (آلِ عِمْرَانَ : (۱۸۲) معنی ثواب اور نزل بمعنی منزل بھی ہو سکتا ہے۔ سَنَحْفَظُ ۔ نُزُلًا (آل عمران: (۱۹۹) یعنی اللہ کی طرف سے اُتارا ہوا۔ جیسا کہ تمہارا یہ ثَوَابًا، وَيَجُوزُ وَمُنْزَلٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ کہنا کہ میں نے اسے اُتارا ہے۔ اور مجاہد نے کہا: كَقَوْلِكَ أَنْزَلْتُهُ۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ کے معنی ہیں بڑے بڑے موٹے تازے خوبصورت گھوڑے اور سعید بن وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ (آلِ عِمْرَانَ : ١٥) جبیر اور عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابزئی نے کہا: الْمُطَهَّمَةِ الْحِسَانِ۔ { قَالَ سَعِيدُ الْمُسَوَّمَةِ کے معنی ہیں الرَّاعِيَةُ یعنی چراگاہ بْنُ جُبَيْرٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ میں کھلے چھوڑ دئے گئے ہوں) اور (سعید) ابن بْنِ أَبْرَى الْمُسَوَّمَةُ الرَّاعِيَةُ ۔ } وَقَالَ جبیر نے کہا: حَصُورا کے معنی ہیں جو عورتوں ابْنُ جُبَيْرٍ : وَ حَصُورًا (آلِ عِمْرَانَ: ٤٠) سے بچتا رہے اور عکرمہ نے کہا: مِنْ فَوْرِهِمْ کے لَا يَأْتِي النِّسَاءَ۔ وَقَالَ عِكْرِمَةٌ مِنْ معنی ہیں بدر کے دن کے اپنے غیظ و غضب کے ا یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۲۶۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔