صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 116 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 116

۶۵ - کتاب التفسير / البقرة صحیح البخاری جلد ۱۰ مَسْئُولًا ) ( بنی اسرائیل: ۳۵) اصرا کے لغوی معنی ثقیل (بوجھل) کے ہیں اور عہد کے پورا کرنے کی ذمہ واری بھی بہت کڑی ہے۔عنوان باب میں غفرانَكَ کی تشریح فَاغْفِرْ لَنَا بلا وجہ نہیں، جیسا کہ سابقہ باب کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے۔غفرانك میں لفظ غفران مصدر ہے جو بمعنی امر واقع ہونے کی وجہ سے منسوب ہے۔مصدر کا یہ مخصوص استعمال بطور التجا اور جذبات رحمت کو تحریک کرنے کی غرض سے ہے۔جس کے لئے اردو میں آج کل لفظ اپیل استعمال ہوتا ہے۔جیسے جنگی قیدیوں سے متعلق فرماتا ہے: فَأَمَا مَنَا بَعْدُ وَ إِمَا فِدَآءَ - (محمد :) - منا اور فداءً بھی مصدر ہیں اور بمعنی طلب یہ صیغہ فعل امر کے صیغہ سے بلحاظ معنی مختلف ہے کہ اس میں رجاء، طلب اور ترغیب کی صورت ہوتی ہے۔حکم کا مفہوم نہیں۔مذکورہ بالا آیت کا حوالہ دے کر نسخ کا مفہوم واضح کیا گیا ہے۔اس بارہ میں علامه طبری کے یہ الفاظ ہیں: وَالْبُرَادُ بِقَوْلِهِ نَسَخَتُهَا أَى أَزَالَتْ مَا تَضَمَّنَتُهُ مِنَ الشَّدّة- یعنی جو سختی اس میں تھی وہ دعا کے دوسرے حصہ سے دور کر دی گئی ہے۔محاسبہ ہو گا لیکن مؤاخذہ نہیں ہو گا۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۰) مواخذہ میں کئی باتیں دیکھی جاتی ہیں۔مثلاً فطرتی استعداد، طبعی روکیں وغیرہ یا یہ کہ احکام الہی کی کماحقہ تبلیغ ہوئی تھی یا نہیں۔استغفار سے متعلق اسلام کی ہدایت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید کا تعلق اس شعور سے ہے جو کوتاہیوں کے بارے میں انسان کو ہونا چاہیے۔اس شعور کے بعد ہی اصلاح کا احساس و فکر ہو سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرض منصبی کی ادائیگی سے متعلق اس قدر شدید احساس تھا کہ آپ کی روح بحالت استغفار گداز رہتی اور آپ نے اپنی امت کو بھی بکثرت استغفار کی تلقین فرمائی۔کے سورۃ البقرۃ میں احکام شریعت کا بیان ہے اور مذکورہ بالا آیات سے اس کا خاتمہ حق و حکمت پر مبنی ہے۔محاسبہ سے متعلق قانون الہی اور مواخذہ سے متعلق سنت اللہ دونوں الگ الگ نمایاں کر کے ضعف بشری کے تدارک کی صورت واضح کی گئی ہے کہ بذریعہ استغفار و دعا اللہ تعالیٰ کی صفت غفاریت و رحیمیت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔انسان کسی حالت میں مایوس نہ ہو۔دعا غفرانك رَبَّنَا۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَانًا ترتیب میں اقرار سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کے بعد ہے۔جس سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ احکام الہی سن کر جہاں تک ہو سکے بجالائے جائیں اور جو کمی رہ جائے اس کی تلافی استغفار و دعا سے کی جائے۔استغفار و دعا اسی وقت قبول ہوتی اور اپنا اثر دکھاتی ہے جب دلی جذبات کے ساتھ صادر ہو۔محض قیل و قال کا مظاہرہ نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا ، رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا ، رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا ، رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طاقَةَ لَنَا بِهِ، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرُ لَنَا، وَارْحَمْنَا، اَنْتَ مولینا کی دعاؤں سے قبل لفظ قول کے صیغے حذف ہیں اور قرآن مجید میں یہ اسلوب بالالتزام ہر جگہ وہاں اختیار کیا گیا ہے جہاں جذبات کے مضطربانہ طبعی اظہار کا موقع ہو۔مثال کے لئے سورۃ آل عمران: ۹، ۱۰، ۱۹۲، ۱۹۳، ۱۹۴، ۱۹۵ دیکھئے۔فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ میں انتخاب و قبولیت الہی کو اسی قسم کی دعاؤں کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔جو مضطربانہ حالت میں صادر ہوں۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور عہد کو پورا کر ویقینا عہد کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ”پھر بعد ازاں احسان کے طور پر یا فدیہ لے کر آزاد کرنا۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند الكوفيين، جزء ۴ صفحه ۲۶۰)