صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 115 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 115

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۱۵ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا : بر نفس حسب استطاعت مکلف ہے۔طاقت سے زیادہ کسی نفس سے نہ مطالبہ ہے اور نہ مؤاخذہ اور وسعت نفس کا دائرہ بھی مختلف ہے۔کسی کی قابلیت و قدرت عملی محدود اور کسی کی بہت وسیع ہر شخص کو شریعت پر عمل کرنے کا اس قدر مکلف کیا جاتا ہے جس قدر اس کی طاقت ہے۔بَاب :٥٥ : أمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ (البقرة: ٢٨٦) (اللہ تعالی کا فرمانا: ) رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف نازل کیا گیا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاس اِصْرًا حضرت ابن عباس نے کہا: آیت (وَلَا تَحْمِلُ (البقرة: ٢٨٧) عَهْدًا وَيُقَالُ عَلَيْنَا اِضرا میں) اضرا کے معنی عہد کے ہیں اور غُفْرَانَكَ کے معنی مغفرت (بھی) کیے جاتے ہیں، غُفْرَانَكَ (البقرة: ٢٨٦) مَغْفِرَتَكَ، فَاغْفِرْ لَنَا۔یعنی ہماری غلطیوں پر پردہ پوشی کرتے ہوئے در گزر فرما۔:٤٥٤٦ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ :۴۵۴۶ اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا۔مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ روح بن عبادہ) نے ہمیں خبر دی کہ شعبہ نے خَالِدٍ الْحَدَّاءِ عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد حذاء سے، خالد نے رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى مروان اصفر سے ، مروان نے رسول اللہ صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسِبُهُ ابْنَ عليه وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے إن تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ اَو ہوئے بیان کیا۔(مروان ) کہتے تھے: میں سمجھتا الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا۔ارتم ہوں وہ حضرت ابن عمرؓ ہیں۔اِن تُبْدُوا مَا فِي تُخْفُوهُ (البقرة: ٢٨٥) قَالَ نَسَخَتْهَا انْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ جو آیت ہے وہ کہتے تھے: اس کو اس آیت نے جو اس کے بعد ہے منسوخ کر دیا۔(یعنی لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا)۔طرفه ٤٥٤٥۔تشريح : أمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّيْه : ما رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا اصْرًا میں لفظ اضرا کے معنی بقول حضرت ابن عباس عہد ہیں۔یعنی اے ہمارے رب! ہمارے عہد کی ذمہ داری کا بوجھ ہم پر نہ ڈال، جیسا کہ تو نے ہم سے پہلوں پر ڈالا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔“