صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 114
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۱۴ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ خَالِدٍ نفیلی نے ہم سے بیان کیا کہ مسکین (بن بکیر الْحَدَّاءِ عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ عَنْ رَجُلٍ حرانی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ شعبہ نے خالد حذاء سے، خالد نے مروان اصفر وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّهَا قَدْ سے مروان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے، نُسِخَتْ: وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ او صحابی سے اور وہ حضرت (عبد اللہ ابن عمرؓ ہیں روایت کی کہ آیت وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ تُخْفُوهُ (البقرة: ٢٨٥) الْآيَةَ۔طرفه: ٤٥٤٦ - اَوْ تُخْفُوهُ منسوخ کر دی گئی تھی۔تشريح: وَإِنْ تَبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوةُ: سورة البقرة کے آخری رکوع کی روایتوں سے متعلق دو باب قائم کر کے ان کے تحت دو سندوں سے حضرت ابن عمر کی روایت نقل کی گئی ہے۔دوسرے باب کے عنوان میں غفرانك ربنا کی طرف توجہ منعطف کروا کر نسخ آیت کے مفہوم کو واضح کیا ہے کہ جہاں تک محاسبہ کا سوال ہے تو یہ اصل الاصول بطور قاعدہ کلیہ کے لازوال طبعی قانون ہے کہ ہر نیک و بد خیال نفس بشریہ میں اپنا اثر بصورت اعمال ظاہر کرتا ہے۔لیکن توبہ و استغفار اور دعا کا قانونِ شریعت رحمت الہی کو حرکت میں لاتا اور انسان کو بد نتائج سے محفوظ کر لیتا ہے۔یہ مفہوم ہے نسخ کا جو ہمیشہ سے جاری و ساری ہے۔اگر انسانی کمزوریوں کے تدارک کا یہ راستہ نہ کھلا ہوتا تو ارتقاء روحانی کا دروازہ کلیۂ بند ہو جاتا۔امام ابن حجر کو زیر باب روایت نمبر ۴۵۴۵ کا بیان (وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ ) قبول کرنے میں توقف ہے۔کیونکہ دوسرے باب کی روایت نمبر ۴۵۴۶) میں اخیسبہ کا جملہ ہے۔جس کے معنی ہیں کہ میر ایمان ہے کہ نسخ آیت کے بارے میں قول حضرت عبد اللہ بن عمر کا ہے۔امام احمد بن حنبل نے بسند مجاہد نقل کیا ہے کہ وہ حضرت ابن عباس کے پاس گئے اور ان سے کہا: كُنتُ عِندَ ابْنِ عُمَرَ فَقَرَ أَهَذِهِ الْآيَةَ ( وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ )۔میں حضرت ابن عمرؓ کے پاس تھا تو وہ آیت و ان تبدوا پڑھ کر رو پڑے کہ اگر بوقت محاسبہ ہر خیال پر مواخذہ ہونے لگا تو مخلصی ممکن نہیں۔حضرت ابن عباس نے انہیں بتایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو شدید غم ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : يَارَسُولَ الله هَلَكْنَا، ہم تو ہلاک ہو گئے۔فَأَمَّا قُلُوبُنَا فَلَيْسَتْ بِأَيْدِينَا: ہمارے دل ہمارے ہاتھوں میں نہیں۔آپ نے فرمایا: قُولُوا سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا۔بعد کی آیات کی طرف توجہ دلائی کہ جہاں تک تم سے ہو سکے سن کر اطاعت سے کام لو اور جو کمی رہ جائے اس کے لئے دعا استغفار سے کام لو۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۵۹) (مسند احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن العباس، جزء اول صفحہ ۳۳۲)