صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 113 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 113

حيح البخاری جلد ۱۰ ١١٣ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة تشريح : وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إلى مَيْسَرَة : یعنی جو قرض کے زیر بار ہے اگر وہ تنگ دست ہو تو اسے مہلت دو یا معاف کر دو۔جو بطور صدقہ ہو گا اور بہترین نیکی ہے۔وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ : مذکورہ بالا روایت فریابی کی ہے۔چار ابواب ۴۹، ۵۱،۵۰ اور ۵۲ میں ایک ہی روایت کا اعادہ ہے۔تا معلوم ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں سارے رکوع کی تلاوت فرمائی اور سود کی حرمت کے ساتھ شراب کی تجارت بھی حرام کی۔باب ٥٣ : وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ (البقرة: ۲۸۲) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے ٤٥٤٤ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ :۴۵۴۴ قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِي سفيان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عاصم عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ( بن سلیمان) سے، عاصم نے شعبی سے، شعبی نے آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الرِّبَا۔انہوں نے کہا: آخری آیت جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی سود کی آیت ہے۔تشریح: وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ: حدیث زیر باب سے مرادو مقصود یہ ہے کہ رہا سے متعلق یہ آخری آیت ہے۔تُرْجَعُونَ کی دوسری قرآت تَرْجِعُونَ بھی ہے، مگر یہ قرآت جو ابو عمرو کی ہے شاذ ہے۔قرآن مجید کے موجودہ نسخوں میں تاء کی پیش سے ہے اور جمہور کی یہی قرآت ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۵۷) باب ٥٤ وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمْ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ ) (البقرة: ٢٨٥) اللہ تعالیٰ کا فرمانا ) اور اگر تم وہ جو تمہارے نفسوں میں ہے ظاہر کر دیا اس کو چھپاؤ تو اللہ تم سے اس کا حساب لے گا اور پھر جس کو چاہے گا اس کی مغفرت کرے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا اور اللہ نے ہر ایک بات کا اندازہ کیا ہوا ہے۔٤٥٤٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ :۴۵۴۵ محمد نے ہمیں بتایا۔(عبد اللہ بن محمد )