صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 106 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 106

صحیح البخاری جلد ۱۰ ☑ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة وَأَحْفَانِي بِالْمَسْأَلَةِ۔فَيُحْفِكُمُ اور اس نے سوال سے مجھے تنگ کر دیا ہے۔(اور (محمد: ۳۸) يُجْهِدْكُمْ۔یہ جو قرآن میں آتا ہے اِن يَسْتَلْكُبُوهَا فَيُحْفِكُمْ اس میں ) فَيُحْفِكُمْ کے معنی ہیں : يُجْهِدُكُمْ - وہ تمہیں دق کرے۔٤٥٣٩: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۴۵۳۹: (سعید) ابن ابی مریم نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ قَالَ حَدَّثَنِي کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شَرِيْكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ :کہا شریک بن ابی نمر نے مجھ سے بیان کیا کہ يَسَارٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ عطاء بن یسار اور عبد الرحمن بن ابی عمرہ انصاری الْأَنْصَارِيَّ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ دونوں نے کہا کہ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَضِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جس کو ایک کھجور یا دو الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَا کھجوریں لوٹا دیں اور نہ وہ جس کو ایک لقمہ یا دو لقمے لوٹا دیں۔بلکہ مسکین تو وہ شخص ہے جو سوال الَّذِي يَتَعَفَّفُ، اِقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ اللُّقَمَةُ وَلَا اللَّقْمَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْكِينُ کرنے سے بچتا رہے اور اگر تم چاہو (قرآن میں پڑھو۔یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ قول: وہ لوگوں يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَى لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا۔(البقرة: ٢٧٤) اطرافه: ١٤٧٦، ١٤٧٩ - سے پیچھے پڑ کر نہیں مانگتے۔ريح : لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا: ألخف على: ألمح علی۔اس نے با اصرار مجھ سے مطالبہ کیا۔وَأَحْفَانِي بِالْمَسْأَلَة: اور اس نے سوال سے مجھے تنگ کر دیا ہے۔الخف لحاف سے ہے۔جس طرح لحاف جسم کے ساتھ لپٹ جاتا ہے اسی طرح سائل لپٹ گیا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۵۵) اگر سوال مطلق منع ہو تو حاجت مند کی حاجت کا علم دوسروں کو نہیں ہو سکتا۔اسلام بھیک مانگنے کو قطعی طور پر بند کرتا ہے اور حکومتوں نے بھی قانونا اسے ممنوع قرار دے دیا ہے۔لیکن نفاذ کمزور ہے۔عہد نبوی نے نہ صرف اس کا نفاذ تزکیہ نفس کے ذریعہ سے کیا، بلکہ اقتصادی حالات کو اتنا بہتر بنا دیا کہ صدقہ قبول کرنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے تھے۔بھیک مانگنے والا کون ہے؟ الَّذِي تَرُدُّدُ الْأَكْلَةُ وَالْأَكْلَتان (روایت نمبر ۱۴۷۶) یعنی جو لقمہ لقمہ کے لئے در بدر مارا مارا پھرتا ہے ؟ یستَلُونَ النَّاسَ الْحَافا کا بھی یہی مفہوم ہے کہ وہ لوگوں سے لیٹے رہتے ہیں۔یعنی