صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 105 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 105

صحیح البخاری جلد ۱۰ اللهُ لَهُ الشَّيْطَانَ فَعَمِلَ بِالْمَعَاصِي ۱۰۵ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة مِنْهَا شَيْءٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ ہے۔یہ سن کر حضرت عمرؓ ناراض ہو گئے۔کہنے عُمَرُ يَا ابْنَ أَخِي قُلْ وَلَا تَحْقِرُ لگے : تم کہو ہم جانتے ہیں یا ہم نہیں جانتے۔تب نَفْسَكَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ ضُرِبَتْ مَثَلًا حضرت ابن عباس نے کہا: امیر المؤمنین! اس لِعَمَلِ قَالَ عُمَرُ أَيُّ عَمَلِ قَالَ ابْنُ آیت کی نسبت میرے دل میں ایک بات ہے۔عَبَّاسٍ لِعَمَلٍ قَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ غَنِي حضرت عمر نے کہا: میرے بھتیجے کہو اور اپنے آپ يَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ بَعَثْ کو حقیر نہ سمجھو۔حضرت ابن عباس نے کہا: یہ عمل کی ایک مثال بیان کی گئی ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا: کس عمل کی؟ حضرت ابن عباس نے کہا: کسی عمل کی۔حضرت عمر نے کہا: یہ اس مالدار شخص کی مثال ہے جو اللہ عزوجل کی اطاعت میں عمل کرتا ہے۔پھر اللہ نے اس کے پاس شیطان کو بھیجا اور اس نے نافرمانیاں کرنی شروع کر دیں۔یہاں تک کہ اس نے سارے اعمال غرق کر دے۔فصر ھن کے معانی ہیں): ان کو کاٹ دے۔حَتَّى أَغْرَقَ أَعْمَالَهُ۔فَصُرُهُنَّ (البقرة: ٢٦١) قَطِعْهُنَّ۔تشريح: ايَوَذُ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِن نَخِيلٍ وَ أَعْنَابٍ: روایت زیر باب میں عمل صالح کی مثال سر سبز و شاداب اور پھل دار باغ سے دی گئی ہے اور جب ذریت ایمان میں کمزور اور بد عمل ہو جاتی ہے تو ان کا باغ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔آیت کا خاتمہ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ اور حضرت عمرؓ کی حاضرین مجلس کے جواب پر ناراضگی سے امام بخاری سابقہ باب کے تعلق میں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ آیات کے سیاق پر غور نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غلط تاویلیں قبول کر لی جاتی ہیں۔جیسا کہ فصُرْهُنَّ کی غلط تفسیر میں قصے گھڑ لئے گئے۔اسی طرف توجہ دلانے کے لیے فَصُرْهُنَّ قَطَعَهُنَّ والی تفسیر روایت کے آخر پر دہرائی گئی ہے۔یہ اصل روایت کا حصہ نہیں۔باب ٤٨ : لا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا) البقرة: ٢٧٤) (اللہ کا فرمانا: ) وہ لوگوں سے پیچھے پڑ کر نہیں مانگتے يُقَالُ أَلْحَفَ عَلَيَّ وَأَلَحَ { عَلَيَّ } کہا جاتا ہے : اُس نے با اصرار مجھ سے مطالبہ کیا۔لفظ " على عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۸ صفحہ ۱۳۰)