صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 107 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 107

1۔2 صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة مانگنا اُن کا پیشہ ہو گیا ہے۔قرآن مجید نے ایسے لوگوں کو لا یسعلونَ النَّاسَ الْحَافًا فرما کر ان محتاجوں کی فہرست سے خارج کر دیا ہے جو صدقات کے مستحق ہیں بلکہ فرماتا ہے : لِلْفُقَرَاءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا۔۔۔۔لَا يَسْدُونَ النَّاسَ الْحَاقَّا (البقرۃ: ۲۷۴) یعنی ان محتاجوں کو صدقہ دیا جائے جو لوگوں سے نہیں مانگتے۔مانگ کر روزی کمانے سے متعلق اسلام کی تعلیم سخت ہے۔وہ اسے غایت درجہ مکروہ فعل قرار دیتا ہے اور اس امر کو ترجیح دیتا ہے کہ انسان محنت مزدوری کر کے اپنی ضرورت کا سامان مہیا کرے۔(دیکھئے کتاب الزکاۃ باب ۵۳، روایت نمبر ۱۴۸۰) لیکن اس اعلیٰ تعلیم کے ساتھ اس نے بنی نوع انسان کے اس طبقہ کو نظر انداز نہیں کیا جو جسمانی طور پر کمزور اور معذور ہیں یا جن کی اقتصادی حالت اس قدر خراب ہے کہ کاروبار شروع نہیں کر سکتے اور امداد کے محتاج ہیں یا کسی اور سبب سے معذور ہیں۔امام بخاریؒ نے قوله تعالی کہہ کر جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے : لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاء مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْهُمْ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا وَ مَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيْمٌ O (البقرۃ: ۲۷۴) یعنی ( یہ مذکورہ بالا صدقات ) اُن محتاجوں کے لئے ہیں جو اللہ کی راہ میں (دوسرے کاموں سے) روکے گئے ہیں وہ ملک میں (آزادی سے) آجا نہیں سکتے۔(ایک) بے خبر ( شخص اُن کے ) سوال سے بچنے کے سبب سے انہیں غنی خیال کرتا ہے۔تم ان کی ہیئت سے پہچان سکتے ہو۔وہ لوگوں سے لپٹ لیٹ کر سوال نہیں کرتے اور تم جو اچھا مال بھی ( اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، اللہ اس سے یقیناً خوب واقف ہے۔أَحْصَرَهُ: حَبَسَهُ عَنْهُ (اقرب الموارد - حصر ) یعنی کسی کام سے اسے روک دیا۔پس معنی یہ ہوئے کہ جو لوگ دوسرے مشاغل سے روکے گئے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ فی سبیل اللہ یعنی دین الہی کے کاموں پر انہیں سب کاموں سے فارغ کر کے لگا دیا گیا ہے۔(حاشیہ و ترجمہ تفسیر صغیر) اس آیت سے جملہ لَا يَستَلُونَ النَّاسَ الْحَاقًا الگ کر کے اس کو باب کا عنوان قائم کرنے سے اول یہ سمجھانا مقصود ہے کہ فقیر یا محتاج جنہیں صدقہ یاز کوۃ دینے کا حکم ہے ، وہ لوگ نہیں جن کا پیشہ مانگتا ہے۔دوم یہ کہ سوال کا لفظ وسعت رکھتا ہے۔اشارہ کنایہ سے بھی انسان اپنی حاجت دوسرے پر ظاہر کر سکتا ہے۔ایسے اظہار سے گو ممانعت نہیں مگر تَعرِفُهُم بِسِيْهُمْ فرما کر اس بات کی تلقین کی ہے کہ مالدار کا یہ فرض ہے کہ ایسے حاجت مندوں کو اپنی دانش و فراست سے شناخت کرے۔کیونکہ ان کی حالت تو زہد و تقویٰ اور حیاء کی وجہ سے یہ ہے کہ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاء مِنَ التَّعَفُّفِ (البقرۃ:۲۷۴) کہ نا واقف انہیں غنی سمجھتا ہے۔اسلام جس طرح متمول افراد کو تلقین کرتا ہے کہ وہ بذات خود اپنے ماحول میں اس بات کا خیال رکھیں کہ در حقیقت کون صحیح معنوں میں محتاج ہے۔اسی طرح حکومت پر بھی یہ فرض عائد کرتا ہے کہ رعایا کی دیکھ بھال کرتی رہے اور از خود محتاج کی حاجت براری کر کے انہیں مانگنے کی لعنت سے بچائے۔خلاصہ روایت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو (خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِه روایت نمبر ۱۴۷۸ کے مطابق) بعض لوگوں کے متعلق یہ خدشہ ہوتا کہ کہیں وہ (سوال کرنے کی وجہ سے) اوندھے منہ آگ میں نہ ڈالے جائیں اور آپ ایسے کو ابتلاء سے بچانے کے لیے خود بخود دیا کرتے تھے۔