صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 103 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 103

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۰۳ ۶۵ - كتاب التفسير / البقرة باب : ٤٦ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى (البقرة: (٢٦١) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب ! مجھے دکھلا که تو مر دے کس طرح زندہ کرتا ہے ٤٥٣٧ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ۴۵۳۷: احمد بن صالح نے اصالح نے ہمیں ! ں بتایا۔ (عبد الله ) حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ بن وہب نے ہم سے بیان کیا کہ یونس نے مجھے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسَعِيدٍ بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ابوسلمہ اور سعید (بن مسیب) سے ، ان دونوں قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ انہوں نے کہا: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر ابراہیم کو شک ہوتا تو) ابراہیم۔ قَالَ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَ لكِنْ لِيَطْمَينَ قلبي (البقرة: ٢٦١)۔ سے بڑھ کر ہمیں زیادہ شک ہونا چاہیے۔ جبکہ انہوں نے یہ دعا کی: اے میرے رب ! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کیا کرتا ہے۔ اس (کے رب) نے کہا: کیا تمہیں یقین نہیں ؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس لئے کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ اطرافه ۳۳۷۲، ۳۳۷۵، ۳۳۸۷، ٤٦٩٤، ٦٩٩٢ - تشريح : وَإِذْ قَالَ ابْرَهُمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحي الموتى: فَصُرْهُن جو اس آیت میں آیا ہے اس کے معنی پرندوں کا کاٹنا اور ان کے ٹکڑے کرنا کئے گئے ہیں۔ امام بخاری نے یہ معنی قبول نہیں کئے۔ اس بارہ میں کوئی مستند روایت نہیں۔ اگر ہوتی تو اس کا حوالہ دیا جاتا۔ امام ابن حجر نے قاضی عیاض کا قول نقل کیا ہے : تَفْسِيرُ صُرْهُنَّ بِقَطِعُهُنَّ غَرِيبٌ کہ مذکورہ بالا تفسیر غیر معروف ہے۔ الْمَعْرُوفُ أَنَّ مَعْنَاهَا أَمِلَهُنَّ اور مشہور معنی یہ ہیں کہ ان پرندوں کو اپنے ساتھ مانوس کرو۔ کہتے ہیں: صَارَهُ يُصَيْرُهُ وَيُصَوِّرُهُ إِذَا أَمَا لَهُ یعنی اُس نے اسے اپنی طرف مائل کر لیا۔ حضرت ابن عباس سے قرآت ضرھن اور صرْهُن دونوں ہی طرح مردی ہے۔ (فتح الباری: ری جزء ۸ صفحه ۲۵۳) آیت فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ میں صلہ اِلَيْكَ ( اپنی طرف) بھی مائل کرنے کے مفہوم کی تائید کرتا ہے۔ اس طرح باقی سیاق کلام اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعَيًّا (البقرۃ: ۲۶۱) بھی۔ کیونکہ اپنے مالک سے مانوس پرندے اس کے پکارنے سے ڈور سے اڑ کر اس کے پاس آجاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو