صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 101 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 101

صحیح البخاری جلد ۱۰ ١٠١ ۶۵ - كتاب التفسير / البقرة ہو گئے۔ اس لئے تو نبوت کر اور ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے میرے لوگو ! دیکھو میں تمہاری قبروں کو کھولوں گا اور تم کو اُن سے باہر نکالوں گا اسرائیل کے ملک میں لاؤں گا۔ اور اے میرے لو گو جب میں تمہاری قبروں کو کھولوں گا اور تم کو اُن سے باہر نکالوں گا تب تم جانو گے کہ خداوند میں ہوں اور میں اپنی روح تم میں ڈالوں گا اور تم زندہ ہو جاؤ گے اور میں تم کو تمہارے ملک میں بساؤں گا۔ تب تم جانو گے کہ میں خداوند نے فرمایا اور پورا کیا۔“ (حزقی ایل ۱۱:۳۷ تا ۱۴) احیاء ملی بغیر نبوت کے نا ممکن ہے۔ یہی مضمون آیات مذکورہ بالا کا ہے۔ مکاشفہ اتنا واضح تھا کہ حز قیل نبی کو حیرت ہوئی کہ آیا سو سال کے واقعات سچ مچ ان کے سامنے گزرے ہیں یا یہ روحانی مشاہدہ ہے جو ایک لمحہ میں لمبے عرصے کے واقعات کا دکھا دینا ہے۔ اپنا سامان خوراک اور سواری دیکھ کر انہیں یقین آیا۔ اس قسم کے مشاہدات روحانی کا تجربہ ہمیں خود متعدد بار ہوا۔ حز قیل نبی کا یہ مکاشفہ ایک لمبے عرصہ سے متعلق تھا اور ہر جز و اپنے وقت پر اسی طرح پورا ہوا، جس طرح بحالت کامل بیداری یا نیم بیداری ایک لمحے میں دکھایا گیا تھا۔ جنہیں تجربہ نہ ہوا ہو وہ تذکرے میں درج مکاشفات کو پڑھیں۔ امام بخاری نے وہ تمام قصے نظر انداز کر دئے ہیں جو مسافر کے مارنے اور دوبارہ زندہ کرنے اور اس کے گدھے وغیرہ کی نسبت نقل کئے گئے ہیں۔ اعصار : شدید آندھی۔ فرماتا ہے : فَأَصَابَهَا اعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ (البقرۃ: ۲۶۷) اس باغ پر ایک ایسی شدید آندھی چلی جس میں آگ تھی۔ اس سے وہ جل گیا۔ مذکورہ بالا اعصار کے معنی واضح ہیں۔ امام بخاری کی شرح محولہ بالا ابو عبیدہ کی ہے اور حضرت ابن عباس سے اِعْصَاد کے معنی رِيحٌ فِيهَا سَموم شديدة باد سموم مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۵۲) صلدًا : چٹیل ۔ جس میں کوئی روئیدگی نہ ہو۔ ریا کاروں کے صدقہ و انفاق کی مثال بیان فرمائی ہے۔ فله كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابُ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ( البقرۃ: ۲۶۵) جو ایسے پتھر کی مانند ہے، جس پر کچھ مٹی ہو۔ جو نہی مینہ کی بوچھاڑ اس پر پڑے ، اسے چٹیل چھوڑ جائے ۔ واہل تیروں کی بوچھاڑ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ (معجم اللغة العربية المعاصرة - وبل) ریا کار آدمی انجام کار طعن و تشنیع کا بھی نشانہ بنتا ہے۔ جس طرح سل بیج نہیں اگا سکتی خواہ اس پر مٹی کیوں نہ ہو اسی طرح ریا کار انسان کا صدقہ و خیرات نتیجہ خیز نہیں ہوتے۔ نشو و نما عارضی ہوتا ہے۔ صلدا کے مذکورہ بالا معنی حضرت ابن عباس سے ابن جریر نے موصولاً نقل کئے ہیں اور ان سے يَا بِسًا الا يَنْبُتُ شَيْئًا - یعنی "خشک جس میں کوئی روئیدگی نہ ہو“ بھی مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۵۲) وَقَالَ عِكْرِمَةُ : وَابِلٌ مَطَرَّ شَدِيدٌ۔ یعنی واہل کے معنی ہیں شدید بارش۔ یہ معنی عبد بن حمید نے عکرمہ