صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 100
صحیح البخاری جلد ۱۰ | ♦ ♦ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة فَبُهِت: استدلال میں رہ گیا۔فرماتا ہے : فَبُهِتَ الَّذِى كَفَرَ (البقرة :۲۵۹) جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا تھا۔بحث میں مبہوت ہو گیا، کوئی دلیل نہ دے سکا۔خَاوِيَةٌ لَا أَنيسَ فِيهَا، عُرُوشُهَا أَبْنِيعُهَا، نُنْشِزُهَا نُخْرِجُهَا : خَاوِيَةٌ سے مراد ہے ویران جس میں کوئی انسان نہ ہو۔عُرُوشُهَا کے معنی ہیں اس کی عمارتیں۔ننشرھا سے مراد ہے ہم انہیں نکالتے ہیں۔ان تینوں الفاظ کی شرح کا تعلق اس آیت سے ہے۔اَوْ كَالَّذِي مَزَ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْى هذِهِ اللهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَاَمَاتَهُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامِ فَانْظُرُ إِلى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَهُ وَانْظُرُ إِلى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرُ إلَى الْعِظامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكَسُوهَا لَحْمًا فَلَنَا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ اَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ (البقرة :۲۶۰) اور (کیا تو نے) اس شخص کی مثل ( کوئی آدمی دیکھا ہے ) جو ایک ایسے شہر کے پاس سے گزرا جس کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنی چھتوں کے بل گرا ہوا تھا۔(اس کو دیکھ کر ) اس نے کہا کہ اللہ اس کی ویرانی کے بعد اسے کب آباد کرے گا۔اس پر اللہ نے اسے سو سال تک خواب میں مارے رکھا۔پھر اسے اٹھایا ( اور ) فرمایا: (اے میرے بندے) تو کتنے عرصہ تک (اس حالت میں) رہا ہے۔اس نے کہا: میں (اس حالت میں) ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہا ہوں۔(تب اللہ نے فرمایا: ( یہ بھی ٹھیک ہے ) اور تو ( اس حالت میں ) سو سال تک بھی رہا ہے۔اب تو اپنے کھانے اور پینے (کے سامان) کی طرف دیکھ کہ وہ سڑا نہیں اور اپنے گدھے کی طرف (بھی) دیکھ (اور ان دونوں کا سلامت رہنا دیکھ کر سمجھ لے کہ تیرا خیال بھی اپنی جگہ درست ہے اور ہمارا خیال بھی) اور ایسا ہم نے اس لئے کیا ہے تا تجھے لوگوں کے لئے ایک نشان بنائیں اور ہڈیوں کی طرف دیکھ کہ ہم انہیں کس طرح اپنی اپنی جگہ رکھ کر جوڑتے ہیں۔پھر ہم ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔پس جب اس پر (حقیقت) پورے طور پر ظاہر ہو گئی تو اس نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔قرية بستی سے مراد مفسرین کے نزدیک بیت المقدس ہے۔عکرمہ، قتادہ، سدی اور ضحاک رحمہ اللہ کا خیال ہے الَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ سے حضرت عزیر نبی مراد ہیں اور اس میں بخت نصر شاہ بابل کے ہاتھوں سے بیت المقدس کی تباہی اور پھر ایک صدی کے بعد اس کی دوبارہ آبادی کے واقعہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۵۱ تا ۲۵۲) ۵۸۶ قبل مسیح میں بابلیوں نے بیت المقدس کو تاخت و تاراج کیا اور جو قتل عام سے بچے رہے وہ قید کر کے بابل میں لے جائے گئے اور تقریباً سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی غلامی سے نجات کا سامان مہیا کیا۔(دیکھئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مصلح موعود، جلد دوم صفحه ۶۰۰) عہد قدیم کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ حضرت حزقیل علیہ السلام کو بذریعہ کشف بوسیدہ ہڈیوں پر گوشت پوست چڑھنے اور ان کے دوبارہ زندہ ہونے کا نظارہ دکھایا گیا تھا۔دیکھئے کتاب حز قیل باب ۳۷، اور اس کے آخر میں مکاشفہ کی تعبیر ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: ” تب اس نے مجھے فرمایا: اے آدم زاد! یہ ہڈیاں تمام بنی اسرائیل ہیں۔دیکھ یہ کہتے ہیں : ہماری ہڈیاں سوکھ گئیں اور ہماری امید جاتی رہی ہم تو بالکل فنا