صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 99
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۹۹ ۶۵ - كتاب التفسير / البقرة میں ہو اور تو انہیں نماز پڑھائے تو ان میں سے ایک حصہ جماعت ( کو چاہیے کہ ) تیرے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنے ہتھیار لے لیں۔ پھر جب وہ سجدہ کر لیں تو وہ تمہارے پیچھے (حفاظت کے لیے ) کھڑے ہو جائیں ۔ پھر ایک اور حصہ جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (آگے) آجائے اور تیرے ساتھ نماز پڑھے اور وہ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لیے رہیں۔ جو لوگ کافر ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کاش تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامانوں سے غافل ہو جاؤ تو وہ یکدم ہی تم پر آپڑیں۔ مذکورہ بالا عنوان کے ساتھ بعض الفاظ آیات کی شرح بھی منقول ہے جو حسب ذیل ہیں۔ كُرْسِيُّهُ - وَسِعَ كرْسِيُّهُ الشَّبُوتِ وَالْأَرْضَ ( البقرة : ۲۵۶) اس کا علم آسمانوں اور زمین سے متعلق وسیع ہے۔ سفیان ثوری نے سعید بن جبیر سے گرمی بمعنی علم نقل کیا ہے اور ان کی روایت کی سند صحیح ہے۔ اس کا علم ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ حضرت ابن عباس سے بھی یہی معنی مرفوعاً مروی ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۵۱،۲۵۰) بَسطَةً : قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِ مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَ اللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقرة : ۲۴۸) بَسْطَہ اس آیت میں وسعت اور برتری کے معنوں میں ہے۔ ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے اسے تمہارے لئے منتخب کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی لحاظ سے (تم سے زیادہ) فراخی عطا کی ہے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی بادشاہت عطاء کرتا ہے اور ال بہت عطاء کرتا ہے اور اللہ وسعت والا ہے اور علیم ہے۔ آفرغ : نازل کر۔ یہ شرح ابو عبیدہ کی ہے۔ جب جالوت کے مقابلہ کے لئے طالوت نکلے تو ان کے ساتھیوں نے دعا کی : رَبَّنَا افْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ ) (البقرۃ: ۲۵۱) اے ہمارے رب ! ہم پر صبر نازل کر اور ہمارے قدم مضبوط رکھ اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ وَلا يَعوده: يعوده: حضرت ابن عبا عباس نے اس فقرے کے معنی لَا يُفْقِلُهُ ( اس پر بوجھ نہیں) کئے ہیں۔ ! پوری آیت یہ ہے : وَسِعَ كُرْسِيُّهُ الـ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا (البقرۃ:۲۵۶) اس کا علم آسمانوں ) اور زمین پر وسیع ہے اور ان دونوں کی حفاظت اس پر بوجھل نہیں۔ ابو ذر کے نسخہ سے ایسا اظہار ہوتا ہے کہ یہ معانی سعید بن جبیر نے کئے ہیں۔ جبکہ امام ابن حجر کا قول ہے کہ ان کی یہ شرح انہیں کسی روایت میں نہیں ملی۔ آدنی: مجھ پر بو جھل ہے۔ یہ قول ابو عبیدہ کا ہے۔ ما آدك: تجھ پر کیا ہی بوجھل ہے۔ ایڈ کے معانی ہیں منقل یعنی بو جھل۔ حضرت ابن عباس سے بھی یہی معنی مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۵۱) السَّنَةُ : النُّعَاسُ اونگھ - لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْم اونگھ اور نیند اسے نہیں آتی (البقرۃ:۲۵۶) سنه کے یہ معنی ابن ابی حاتم نے نے حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں۔ لَمْ يَتَسَنَّة: ہیں ۔ لَمْ يَتَسَنَّهُ : متغیر نہیں ہوا۔ اس میں تبدیلی نہیں ہوئی۔ فرماتا ہے : فَانْظُرُ إِلى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهُ (البقرة: ۲۶۰) اپنے کھانے اور پینے (کے سامان) کو دیکھ وہ ایسے ہی ہیں باسی نہیں ہوئے۔ يَتَسَنَّهُ کے یہ معنی بھی حضرت ابن عباس ہی سے مروی ہیں۔ یکسن کی سکتہ کی ہے۔ اصل میں یکسن ہے ، حَيَا مَسنُون : گارا جس میں سڑاند پیدا ہو۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۵۱)