صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 97 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 97

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۹۷ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة التَّعَاسُ لَمْ يَتَسَنَّهُ (البقرة : ٢٦٠) لَمْ الْآد اور الْأَيْدُ کے معنی ہیں قدرت و طاقت۔يَتَغَيَّرُ۔فَبُهِتَ (البقرة: ٢٥٩) ذَهَبَتْ سِنَةٌ کے معنی اونگھ۔لَمْ يَتَسَنَة کے معنی ہیں حُجَّتُهُ۔خَاوِيَةٌ (البقرة: ٢٦٠) لا وہ نہیں بگڑا۔فَبُهِت کے معنی اس کے پاس کوئی أَنِيسَ فِيهَا عُرُوشُهَا أَبْيَتُهَا۔دلیل نہ رہی۔خاویۃ کے معنی ہیں ایسا بر باد جس نُنْشِزُهَا (البقرة: ٢٦٠) نُخْرِجُهَا۔میں کوئی ہمدم نہ ہو۔عُرُوشُها کے معنی ہیں اس کی عمارتیں۔ننشرها ہم انہیں نکالتے ہیں۔إعصار (البقرة: ٢٦٧) رِيحٌ عَاصِفٌ اعصار تیز آندھی جو زمین سے اٹھ کر آسمان تَهُبُّ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ كَعَمُودِ تک چلی جاتی ہے جو ایک ستون کی طرح ہوتی ہے فِيهِ نَار جس میں آگ ہو۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ صَلْدًا (البقرة : ٢٦٥) حضرت ابن عباس نے کہا: (فَتَرَكَهُ صَلْدًا میں ) لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَقَالَ عِكْرِمَةُ صَلْدًا کے معنی ہیں اس پر کچھ نہ ہو۔عکرمہ نے وايل (البقرة: ٢٦٥) مَطَرْ شَدِيدٌ کہا: واہل کے معنی ہیں تیز بارش۔کالی کے معنی ہیں شبنم، اور یہ مثال ہے مومن کے عمل کی۔الظَّلُّ النَّدَى، وَهَذَا مَثَلُ عَمَلِ يتسنہ کے معنی ہیں وہ بگڑ جائے۔الْمُؤْمِنِ۔يَتَسَنَّهُ (البقرة: ٢٦٠) يَتَغَيَّرُ۔٤٥٣٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ :۴۵۳۵: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ که مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ سے جب نماز خوف سے متعلق پوچھا جاتا تو کہتے امام آگے ہو اور کچھ لوگ (اس کے پیچھے ہوں) يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ النَّاسِ اور امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور ان میں سے فَيُصَلِّي بِهِمُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَتَكُونُ کچھ لوگ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رہیں، طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ وہ نماز نہ پڑھیں۔وہ لوگ جو امام کے ساتھ ہیں يُصَلُّوا فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً جب ایک رکعت پڑھ لیں تو وہ ہٹ کر ان لوگوں اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلَا کی جگہ آجائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اور سلام