صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 96 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 96

صحیح البخاری جلد ۱۰ १५ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ کی۔ انہوں نے کہا: ہم نماز میں باتیں کیا کرتے حفِظُوا عَلَى الصَّلَوتِ وَ الصَّلوةِ الْوُسطیٰ تھے۔ ہم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اپنی وَقُومُوا لِلَّهِ قُنِتِينَ (البقرة: ٢٣٩) ضرورت کے بارے میں بات کر لیا کرتا تھا۔ فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ۔ آخر یہ آیت نازل ہوئی: تم (تمام) نمازوں کا اور (خصوصاً) در میانی نماز کا پورا خیال رکھو اور اللہ کے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ تب ہمیں خاموشی کا حکم دیا گیا۔ طرفه: ۱۲۰۰ - تشریح : وَقُوْمُوا لِلَّهِ قَنِتِينَ: قُنِتِينَ کے کے معنی ہیں مُطِیعِینَ یعنی اطاعت کرنے والے ، بمطابق تفسیر حضرت ابن مسعود و حضرت ابن عباس و بعض تابعین مجاہد کے نزدیک قنوت کے معنی خشوع و خضوع اور دیر تک کھڑے رہ کر رے رہ کر عاجزی سے دعا کرنے کے بھی ہیں۔ روایت زیر با ہیں۔ روایت زیر باب میں اس حکم کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ مذکورہ معنوں کے خلاف نہیں۔ نہ خاموش رہنے کے حکم سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ نماز میں بالکل خاموشی ہے۔ کیونکہ نماز نام ہے ذکر الہی اور دعا کا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۴۹، ۲۵۰) باب ٤٤ : فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا (اللہ عزوجل کا یہ فرمانا:) اور اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل یا سوار ہونے کی حالت میں ہی ( نماز پڑھ لو ) فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَمَا عَلَمَكُمْ پھر جب تمہیں امن حاصل ہو جائے تو اللہ کو یاد مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ) کرو کیونکہ اس نے تمہیں ( وہ کچھ ) سکھایا ہے جو (البقرة: ٢٤٠) تم (پہلے) نہ جانتے تھے۔ وَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ كُرْسِيُّهُ اور (سعید) بن جبیر نے کہا: (وَسِعَ كُرْسِيُّهُ (البقرة: ٢٥٦) عِلْمُهُ۔ يُقَالُ بَسْطَةَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ میں ) كُرْسِيُّہ کے معنی ہیں اس (البقرة: ٢٤٨) زِيَادَةً وَفَضْلًا أَفْرِغْ کا علم - بَسْطَہ کے معنی ہیں بہتات اور برتری۔ (البقرة: ٢٥١) أَنْزِلْ وَلَا يَئُودُهُ أَفْرِغْ کے معنی ہیں نازل کر۔ وَلَا يَعُودُہ کے (البقرة: ٢٥٦) لَا يُثْقِلُهُ آدَنِي معنی ہیں، اس پر بو جھل نہیں ہوتی۔ (اس سے أَثْقَلَنِي وَالْادُ وَالْأَيْدُ الْقُوَّةُ السِّنَةُ ہے) آدنی (جس کے معنی ہیں) مجھے بوجھل کر دیا۔