صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 96 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 96

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۹۶ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ کی۔انہوں نے کہا: ہم نماز میں باتیں کیا کرتے حفِظُوا عَلَى الصَّلَوتِ وَ الصَّلوة الوسطى تھے۔ہم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اپنی وَقُومُوا لِلَّهِ قَنِتِينَ (البقرة: ٢٣٩) ضرورت کے بارے میں بات کرلیا کرتا تھا۔آخر یہ آیت نازل ہوئی: تم (تمام) نمازوں کا اور فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ۔طرفه: ۱۲۰۰ - ( خصوصاً) در میانی نماز کا پورا خیال رکھو اور اللہ کے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔تب ہمیں خاموشی کا حکم دیا گیا۔تشریح: وَقُومُوا لِلَّهِ قَنِتِينَ: قَنِتِينَ کے معنی ہیں مطیع بین یعنی اطاعت کرنے والے، بمطابق تفسیر حضرت ابن مسعودؓ و حضرت ابن عباس و بعض تابعین۔مجاہد کے نزدیک قنوت کے معنی خشوع و خضوع اور دیر تک کھڑے رہ کر عاجزی سے دعا کرنے کے بھی ہیں۔روایت زیر باب میں اس حکم کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ مذکورہ معنوں کے خلاف نہیں۔نہ خاموش رہنے کے حکم سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ نماز میں بالکل خاموشی ہے۔کیونکہ نماز نام ہے ذکر الہی اور دعا کا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۵۰،۲۲۹) بَاب ٤٤ : فَإِنْ خِفْتُمُ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا E (اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: ) اور اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل یا سوار ہونے کی حالت میں ہی ( نماز پڑھ لو) فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَمَا عَلَمَكُمْ پھر جب تمہیں امن حاصل ہو جائے تو اللہ کو یاد قَالَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ) کرو کیونکہ اس نے تمہیں (وہ کچھ ) سکھایا ہے جو (البقرة: ٢٤٠) تم ( پہلے ) نہ جانتے تھے۔وَقَالَ ابْنُ جُبَيْر کُرسِيُّهُ اور (سعید بن جبیر نے کہا: (وَسِعَ كُرْسِيُّهُ (البقرة : ٢٥٦) عِلْمُهُ۔يُقَالُ بَسْطَةَ السَّبُوتِ وَالْأَرْضَ میں) کرسیہ کے معنی ہیں اس (البقرة : ٢٤٨) زِيَادَةً وَفَضْلًا أَفْرِغْ کا علم - بَسُطة کے معنی ہیں بہتات اور برتری۔(البقرة: ٢٥١) أَنْزِلْ وَلَا يَعُودُهُ افْرِغْ کے معنی ہیں نازل کر۔ولا يودہ کے (البقرة: ٢٥٦) لَا يُثْقِلُهُ آدَنِي معنی ہیں، اس پر بوجھل نہیں ہوتی۔(اسی سے أَثْقَلَنِي وَالْآدُ وَالْأَيْدُ الْقُوَّةُ السّنَةُ ہے) آدَنِي ( جس کے معنی ہیں) مجھے بوجھل کر دیا۔