صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 95
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۹۵ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة میں اختلاف ہے۔امام ابن حجر نے علامہ دمیاطی کی مشہور کتاب کشف الغطاء عن الصلوة الوسطی کے حوالے سے اس بارہ میں انہیں اقوال کا ذکر کیا ہے کہ نماز وسطی کا مصداق نماز فجر یا ظہر یا عصر یا مغرب یا ساری نمازیں ہیں اور وجہ بیان کی گئی ہے کہ خواب غفلت میں صبح کی نماز یا شدت گرمی میں ظہر کی نماز ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے اس کی حفاظت کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔بعض نے جمعہ کی نماز صلوۃ وسطی قرار دی ہے کہ وہ قابل اہتمام ہے۔ان اقوال سے ظاہر ہے کہ جس نماز کے ضائع ہونے کا ڈریا اسے کسی وجہ سے اہمیت حاصل ہو وہی نماز وسطی ہے۔کاروبار کے اثنا میں یا جنگ کی حالت میں ہر نماز کے ضائع ہونے کا احتمال ہے اور اس لحاظ سے اس کی نگہداشت ضروری ہے۔آیت کے سیاق سے بھی یہی پایا جاتا ہے۔کیونکہ جس چیز کے ضائع ہونے کا خوف ہو اسی کی خاص طور پر حفاظت کی جاتی ہے۔دوران جنگ نماز عصر ضائع ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوۃ الوسطی کا اس پر اطلاق فرمایا۔اس سے یہ سمجھنا درست نہیں کہ صرف عصر کی نماز صلوۃ الوسطی ہے، کسی اور نماز کے لئے ایسے حالات پیدا نہیں ہو سکتے کہ وہ ضائع ہو جائے۔وسطی کے معنی ہیں درمیانی۔ضائع کرنے والے حالات میں واقع ہر نماز وسطی کہلا سکتی ہے اور صلوٰۃ الوسطی کے ایک معنی اعلیٰ درجے کی نماز کے بھی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۴۵ تا ۲۴۸) ہر نماز جو کسی وجہ سے قابل اہتمام ہو نماز وسطی ہو گی۔مثلاً نماز مغرب کی بابت ارشاد نبوی ہے کہ وہ سورج غروب ہونے پر ہی پڑھی جائے یا صبح کی نماز سے متعلق فرمایا کہ سورج نکلنے کا انتظار نہ کرو۔اس لحاظ سے یہ دونوں نمازیں بھی قابل اہتمام ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب مواقیت الصلوۃ باب ۳۰، ۳۱۔مَلَا اللهُ قُبُورَهُمْ نَارًا : ناراضگی کا یہ فقرہ نماز کے ضائع ہونے کی وجہ سے شدت احساس پر دلالت کرتا ہے۔جن کفار نے مسلمانوں کے خلاف سارے ملک میں آگ بھڑکا دی تھی، وہ دعاء رحمت کے کیونکر مستحق ہو سکتے تھے۔سلسلہ پاداش کا حساب تو نیک و بد اعمال پر مبنی ہے اور جو اچھی بری جزا بوقت محاسبہ ملتی ہے وہ عمل کی مماثلت سے ملتی ہے۔آگ بھڑ کانے والوں کی سزا آگ ہی ہو سکتی ہے۔باب ٤٣: وَقُومُوا لِلَّهِ قَنِتِينَ (البقرة: ٢٣٩) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور اللہ کے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ أَيْ مُطِيعِينَ۔قنِتِينَ کے معنی ہیں: اطاعت کرنے والے۔٤٥٣٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۴۵۳۴ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی ( بن يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنِ سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرِو بن الى خالد سے، اسماعیل نے حارث بن شبیل الشَّيْبَانِي عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنَّا ہے ، حارث نے ابو عمر و ( سعد بن ایاس) شیبانی نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ سے، انہوں نے حضرت زید بن ارقم سے روایت