صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 92
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۹۲ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة وَالَّذِينَ يُتَوَفُونَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَعْفُونَ کے معنی یہین، صبر کر دیں، جشش دیں۔يَعْفُونَ سے آیت إِلا أَن يَعْفُونَ اَوْ يَعْفُوا الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاح (البقرة: ۲۳۸) کی طرف اشارہ کر کے اس اختلاف کا حل کیا ہے جو سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۴۱ سے متعلق بعض کو ہوا ہے کہ وہ آیت فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُونِ " (البقرة: ۲۳۵) سے منسوخ ہے۔یہ آیت جسے ناسخ قرار دیا جاتا ہے پہلے ہے اور جسے منسوخ کہا جاتا ہے وہ بعد میں۔جس سے ظاہر ہے کہ منسوخ حکم پہلے ہونا چاہیے تھا اور ناسخ حکم بعد میں۔موجودہ ترتیب آیات میں الٹ ہے ، ناسخ ( یعنی منسوخ کرنے والی آیت) پہلے ہے اور منسوخ بعد میں، جو خلاف دستور اور غیر معقول ہے کہ قابل منسوخ حکم صادر نہیں ہوا کہ نسخ کرنے والا حکم پہلے نازل ہو گیا۔اصل بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں بالکل الگ حکم ہے جو متوفی کی بیوہ کے بارے میں ہے کہ اسے چار مہینے اور دس دن انتظار کرنا چاہیے تا حمل کا علم ہو جائے۔کیونکہ حمل کی صورت میں وضعگی کے بعد عقد نکاح ہونا چاہیے۔(الطلاق:۵) اور دوسرے حکم کا مفہوم یہ ہے کہ متوفی وصیت کرے کہ اس کی بیوہ کو گھر سے ایک سال تک نکالنا نہیں سوا اس کے کہ وہ خود نکلے اور اپنے والدین یا کسی رشتہ دار کے پاس مقیم ہو جہاں اس کا اطمینان ہو۔اس حکم کے دو حصے ہیں۔ایک کا تعلق متوفی اور اس کے رشتہ داروں سے اور دوسرے حصہ کا بیوہ اور اس کے رشتہ داروں سے۔دونوں حکموں کا تعلق مختلف حالات سے ہے اور حالات کے مطابق واجب التعمیل ہیں، ناسخ منسوخ نہیں۔امام بخاری نے آیت يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوا الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النكاح (البقرۃ:۲۳۸) کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ رخصتانہ سے قبل طلاق کی صورت میں خود بھی حق مہر معاف کر سکتی ہیں اور اُن کا ولی بھی۔جیسی صورت حالات ہو۔جس طرح اس آیت کے دونوں حصے ناسخ منسوخ نہیں کہلا سکتے، معنونہ آیت کے دونوں حصے ایک دوسرے کے ناسخ نہیں۔خاوند کو یہ ضروری ہے کہ وہ ایک سال کی غیر اخراج والی وصیت کرے۔لیکن اگر کوئی بیوہ گھر سے خود لل فلا جُنَاحَ عَلَيْكُم تو جن پر وصیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہو ، وہ قابل مواخذہ نہیں ہوں گے۔قَالَ قَد نَسَخَتُهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى: حضرت عبد اللہ بن زبیر نے حضرت عثمان سے کہا کہ اس (آیت) کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے پھر آپ اسے کیوں لکھتے ہیں۔تو انہوں نے جواب دیا: میں قرآن مجید میں تغیر و تبدل نہیں کروں گا۔حضرت عبد اللہ بن زبیر کے سوال میں الفاظ فَلِمَ تَكْتُبُها يا فَلِمَ تَدَعُهَا ہیں۔دونوں فقروں میں اُو حرف عطف ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قَد نَسَخَفْهَا کو ان معنوں میں لیا ہے کہ عورت کے لئے لازمی نہیں کہ وہ بھی پورا ایک سال رہے۔چار ماہ دس دن کی عدت انتظار تو خاوند کے گھر میں ضروری ہے۔لیکن خاوند کی ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع سوائے اس کے کہ وہ (عورتیں) معاف کر دیں، یاوہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کا بندھن ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " پس جب وہ اپنی (مقررہ) مدت کو پہنچ جائیں تو پھر وہ (عورتیں) اپنے متعلق معروف کے مطابق جو بھی کریں اس بارہ میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔“