صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 91
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۹۱ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة ٤٥٣٢ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ حَدَّثَنَا :۴۵۳۲ حبان ( بن موسیٰ السلمی) نے ہمیں بتایا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ که عبد الله بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ مُّحَمَّدِ بْن سِيرِينَ قَالَ جَلَسْتُ عبد الله بن عون نے ہمیں بتایا کہ محمد بن سیرین إِلَى مَجْلِسٍ فِيهِ عُظْمٌ مِنَ الْأَنْصَارِ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: میں ایک مجلس وَفِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى میں بیٹھا جہاں بڑے بڑے انصاری تھے اور ان میں عبد الرحمن بن ابی لیلی بھی تھے۔میں نے فَذَكَرْتُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عبد اللہ بن عتبہ کی اس حدیث کا ذکر کیا جو حضرت فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقَالَ سبیعہ بنت حارث سے متعلق ہے۔عبد الرحمن نے عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَلَكِنَّ عَمَّهُ كَانَ لَا کہا لیکن عبد اللہ بن عقبہ کے چچا تو یوں نہیں کہتے يَقُولُ ذَلِكَ فَقُلْتُ إِنِّي لَجَرِيءٌ إِنْ تھے۔میں نے کہا: میں تو پھر بڑا ہی دلیر ہوں اگر كَذَبْتُ عَلَى رَجُلٍ فِي جَانِبِ میں نے ایسے شخص کی بابت جھوٹ کہا ہے جو الْكُوفَةِ وَرَفَعَ صَوْتَهُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ کوفہ کے ایک کونے میں رہتا ہے اور انہوں نے فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ أَوْ مَالِكَ بْنَ اپنی آواز بلند کی۔محمد بن سیرین کہتے تھے یہ کہہ کر عَوْفٍ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ قَوْلُ ابْن میں باہر چلا گیا اور پھر مالک بن عامر یا مالک بن مَسْعُودٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا عوف سے ملا۔میں نے پوچھا کہ حضرت ابن مسعودؓ وَهْيَ حَامِل فَقَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ کا کیا قول تھا؟ اس عورت کے بارے میں جس کا أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا خاوند وفات پا کر اُس کو چھوڑ) جائے اور وہ حاملہ تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّحْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ ہو۔انہوں نے کہا حضرت ابن مسعودؓ کہتے تھے: النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى وَقَالَ تم حاملہ پر سختی تو کرتے ہو اور اس کے لیے آسانی نہیں کرتے۔حالانکہ عورتوں کے متعلق چھوٹی سورة ( یعنی سورۃ الطلاق ) تو لمبی ( یعنی سورة البقرة) کے بعد اتری۔اور ایوب (سختیانی) نے محمد (بن سیرین) سے یوں نقل کیا کہ میں ابوعطیہ مالک أَيُّوبُ عَنْ مُّحَمَّدٍ لَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ۔طرفه: ٤٩١٠۔بن عامر سے ملا۔