صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 93
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۹۳ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة موت کے بعد باقی سات ماہ اور بیس دن کا عرصہ اس کے لئے پورا کرنا واجب نہیں۔چاہے متوفی کے گھر میں بموجب وصیت رہے اور چاہے نہ رہے، چلی جائے۔سلف صالح نے بھی اس آیت سے یہی مراد لی ہے۔باب کی دوسری روایت ( نمبر ۴۵۳۱) سے نسخ آیت کا مذکورہ بالا مفہوم واضح کیا گیا ہے۔امام ابن حجر نے اس قسم کے نسخ کی مثالیں قرآن مجید سے دی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَتَم وَجْهُ اللهِ (البقرة: ۱۱۶) اس لیے جدھر بھی تم رُخ کرو گے ادھر ہی اللہ کی توجہ ہو گی اور فرماتا ہے: وَحَيْثُ مَا كُنتُم فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَةُ (البقرة:۱۴۵) اور (اے مسلمانو!) تم ( بھی ) جہاں کہیں ہو اس کی طرف اپنے منہ کیا کرو۔ایک میں عام حکم ہے اور دوسرے میں خاص۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۴۴) جس طرح متوفی خاوند کے لئے مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ الخَراجِ کی وصیت کرنے کا حکم عام ہے۔فَاِن خَرَجْنَ کی اجازت بیوہ کے لئے مخصوص ہے۔احکام شریعت میں یہ صورت تشریع توسع کہلائے گی نہ ان معنوں میں تاریخ و منسوخ جو عام طور پر سمجھے جاتے ہیں۔آخری روایت میں حضرت ابن مسعودؓ کا قول اس بارے میں قول فیصل ہے: أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظ، وَلا تَجْعَلُونَ لَهَا الرخصة، تم بیوہ پر سختی کرنا چاہتے ہو اس کے لئے آسانی نہیں کرتے۔پھر انہوں نے کہا کہ عورتوں کے متعلق سورۃ البقرۃ کی یہ آیات پہلے نازل ہوئی ہیں اور سورۃ الطلاق کا نزول اس کے بعد ہوا ہے۔زَعَمَ ذَلِكَ عَنْ تُجَاهد : شبل بن عباد راوی نے کہا کہ عبد اللہ بن ابی نجیح نے مذکورہ تفسیر مجاہد سے روایت کی۔دععہ کا فاعل ابن ابی نجیح ہیں۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۴۴) وقال عطاء : عطاء کا قول معطوف ہے مجاہد پر کہ ابن ابی نجیح نے بسند عطاء مذکورہ بالا تفسیر نقل کی ہے۔اس وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ بعض کا خیال ہے کہ روایت معلق ہے۔چنانچہ یہ خیال در قاء کی سند سے بھی رد کیا گیا ہے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے حوالہ سے جس کے راوی عبد اللہ بن ابی بھیج اور عطاء ہیں، بتایا گیا ہے کہ آیت فان خجن میں بیوہ عورت کو عدت گزارنے کی اجازت دی ہے کہ جہاں وہ چاہے گزارے۔ضروری نہیں کہ اپنے متوفی خاوند کے گھر ہی میں گزارے۔کیونکہ غیر اخراج کی ممانعت کا تعلق خاوند کے اقرباء سے ہے۔مَجْلِسٍ فِيهِ عُظمُ مِنَ الْأَنْصَارِ : یہ مجلس انصار میں سے بڑے لوگوں پر مشتمل تھی اور یہ حضرت سبیعہ بنت حارث کا واقعہ ہے۔بَاب ٤٢ : حَفِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلوة الوسطى (البقرة: ٢٣٩) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) تم ( تمام ) نمازوں کا اور ( خصوصاً) درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو ٤٥٣٣ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ ۴۵۳۳: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ کہ یزید نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام ( بن حسان) مُّحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِقٍ رَضِيَ اللہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن سیرین) سے،