صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 90 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 90

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة وَقَالَ عَطَاء قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ نَسَخَتْ اور عطاء کہتے تھے : حضرت ابن عباس نے کہا: اس هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ آیت نے عورت کی وہ عدت کی سابقہ رسم) حَيْثُ شَاءَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى منسوخ کر دی جو وہ اپنے گھر والوں کے پاس پورا کرتی تھی۔اب جہاں چاہے عدت پوری کرے اور غَيْرَ اخراج۔یہی ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو نہ نکالا جائے۔قَالَ عَطَاءٌ إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ عطاء کہتے تھے : اگر وہ چاہے تو اپنے گھر والوں کے أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ پاس عدت گزارے اور اپنی وصیت کے مطابق شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى رہے اور اگر چاہے، نکل جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ ہے تم پر کوئی گناہ نہیں، اس امر میں جو انہوں : (البقرة: ٢٤١) قَالَ عَطَاءٌ ثُمَّ جَاءَ نے کیا۔عطاء کہتے تھے: اس کے بعد میراث کا حکم الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى فَتَعْتَدُّ نازل ہوا اور اس نے سکونت (کے دستور ) کو منسوخ کیا۔اس لئے اب جہاں چاہے عدت گزارے اور حَيْثُ شَاءَتْ وَلَا سُكْنَى لَهَا۔اس کے لئے خاوند کے گھر میں رہنا ضروری نہیں۔وَعَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ اور محمد بن یوسف (فریابی) سے مروی ہے۔عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا۔انہوں نے کہا: ) ورقاء (بن عمر ) نے ابن ابی بیج سے بروایت مجاہد ہمیں یہی بتایا۔وَعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَطَاءٍ اور ابن ابی بھیج سے یہی مروی ہے کہ انہوں عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ نَسَخَتْ هَذِهِ نے عطاء سے، عطاء نے حضرت ابن عباس الْآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: اس آیت شَاءَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ غَيْرَ اِخْرَاجِ نَحْوَهُ نے عورت کی اس عدت کو منسوخ کر دیا جو وہ اپنے گھر والوں میں گزارا کرتی تھی۔اب جہاں طرفة: ٥٣٤٤۔چاہے عدت گزارے۔کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے: نہ نکالا جائے۔