صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 86
صحيح البخاری جلد ۱۰ AY ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة اوندھے ہو کر اور یہود کے ہاں علی حرف یعنی کروٹ کے بل کا رواج تھا۔ہر آسن کا تعلق اندام نہانی سے ہے جو جائے پیدائش ہے۔اسرائیل بن روح سے مروی ہے کہ امام مالک سے آنی شفتُم کے معنی دریافت کئے گئے تو انہوں نے کہا: مَا أَنتُمْ قَوْمُ عَرَبٍ هَلْ يَكُونُ الْحَرْتُ إِلَّا مَوْضِعَ الزّرع؟ تعجب ہے تم عرب لوگ ہو کیا کھیتی زرعی جگہ کے سوا بھی ہوتی ہے؟ اسی مفہوم پر مالکیوں میں سے فقہائے متأخرین کا اتفاق ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۳۹، ۲۴۱) امام ابن حجر نے حضرت ابن عباس کی ایک روایت نقل کی ہے جو امام احمد بن حنبل اور ترمذی نے نقل کی ہے کہ حضرت عمرؓ نے یہود کا آسن (علی حرف) اختیار کر کے ندامت محسوس کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے آیت نِسَاؤُكُمْ حَرْتُ لَكُمْ پڑھی اور فرمایا: أَقْبِلُ وَأَدْبِرُ وَاتَّقِ الأَبْرَ والخيص کے سامنے سے ہو یا پیچھے سے، لیکن مقعد سے بچو اور حائضہ سے بچو۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۲۰) یہ روایت حضرت جابر کی مشہور روایت نمبر ۴۵۲۸ سے موافق ہے، جو آیت کے شان نزول سے متعلق واضح ہے۔اس میں یہود کی عادت کا ذکر ہے۔ابوداود نے حضرت ابن عباس سے بسند مجاہد نقل کیا ہے کہ مشرکین مدینہ یہودیوں کے اکثر افعال کی تقلید کرتے تھے اور مباشرت میں بھی انہی کے آسن اُن کے ہاں رائج تھے۔اسی طرح قریش بھی۔ایک مہاجر قریشی کی مدینہ کی انصاری عورت سے شادی ہوئی اور اس نے یہودیوں کے طریق کے مطابق مباشرت کرنی چاہی، عورت نے انکار کیا اور رسول اللہ صلیم کو علم ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی۔کے اس روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ حضرت ابن عباس سے حضرت ابن عمرؓ کی تاویل آیت کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ حضرت ابن عمر کو معاف کرے۔ان کا یونہی خیال ہے کہ آیت میں وسعت اور جواز ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۴۰) أُنزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا : امام ابن حجر نے اس بارے میں مختلف روایتیں نقل کر کے بتایا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی طرف تاویل آیت کے بارے میں جو قول منسوب کیا جاتا ہے وہ واضح نہیں، اس میں ابہام ہے۔امام بخاری نے جو دو مستند روایتیں نقل کی ہیں ان میں بھی ابہام ہے۔حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَانٍ - جب مذکورہ بالا آیت کی جگہ پہنچے تو انہوں نے یہ یہ باتیں کیں۔وہ کیا باتیں تھیں؟ اس کا کوئی ذکر نہیں اور دوسری روایت بھی "يَأْتيها في " پر ختم ہے۔حمیدی نے فی الفرج کہہ کر شرمگاہ کی صراحت کی ہے، جو سیاق کلام سے واضح ہے۔اس کے ماسوا حرام ہے اور لواطت کی حرمت کے بارے میں قرآن مجید اور صحیح احادیث قطعی ہیں، جس پر ائمہ و فقہا کا اتفاق ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۳۸ تا ۲۴۱) (سنن الترمذی، کتاب تفسیر القرآن،باب و من سورة البقرة) (مسند احمد بن حنبل، مسند بنی هاشم ، مسند عبد الله بن العباس، جزء اول صفحه ۲۹۷) (سنن ابی داود، كتاب النكاح، باب في جامع النكاح)