صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 84 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 84

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة تشریح : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ : آیت ۲۱۵ کا ذکر اس باب کے ضمن میں لاکر حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے، جس کا تعلق مفہوماً اس آیت سے بھی ہے اور سورۃ یوسف کی آیت نمبر ا ا اسے بھی ہے۔ اس تعلق میں کتاب احادیث الانبیاء، باب ۱۹ روایت نمبر ۳۳۸۹ بھی دیکھئے۔ دونوں آیتوں میں انبیاء ورسل کے حوصلہ شکن شدید ابتلاء اور خارق عادت نصرت الہی کے ظہور کا ذکر ہے۔ باب ۳۹ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِ مُوا لِأَنْفُسِكُمُ الْآيَةَ (البقرة: ٢٢٤) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) تمہاری عور تیں تمہارے لئے ایک کھیتی ہیں اس لئے تم اپنی کھیتی میں آؤ جس طرح چاہو اور اپنی بھلائی کو مقدم رکھو ٤٥٢٦: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۴۵۲۶: اسحاق بن راہویہ ) نے ہم سے بیان کیا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ کہ نضر بن شمیل نے ہمیں خبر دی کہ (عبد الله ) عَنْ نَّافِعِ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ الله بن عون نے ہمیں بتایا۔ نافع سے روایت ہے۔ عَنْهُمَا إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب يَفْرُغَ مِنْهُ فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا فَقَرَأَ قرآن پڑھتے تو جب تک اس سے فارغ نہ ہو لیتے سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَانٍ بات نہ کرتے۔ میں نے ایک دن اُن سے قرآن کا قَالَ تَدْرِي فِيمَ أُنْزِلَتْ قُلْتُ لَا قَالَ سبق لیا۔ انہوں نے سورہ بقرہ پڑھی۔ یہاں تک کہ جب اس آیت ( نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ ) پر أُنْزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ مَضَى۔ پہنچے (مجھے) کہنے لگے : تم جانتے ہو یہ آیت کس طرفه ٤٥٢٧۔ کے بارے میں اتری؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: فلاں فلاں بات سے متعلق اتری۔ پھر وہ پڑھنے لگ گئے۔ ٤٥٢٧ : وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ۴۵۲۷ اور عبد الصمد (بن عبد الوارث) سے { حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْ مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) میرے باپ نے ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۲۳۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔