صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 84
حيح البخاری جلد ۱۰ ۸۴ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة ام حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ : آیت ۲۱۵ کا ذکر اس باب کے ضمن میں لا کر حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے، جس کا تعلق مفہونا اس آیت سے بھی ہے اور سورۃ یوسف کی آیت نمبر اا ا سے بھی ہے۔اس تعلق میں کتاب احادیث الانبیاء، باب ۱۹ اروایت نمبر ۳۳۸۹ بھی دیکھئے۔دونوں آیتوں میں انبیاء ورسل کے حوصلہ شکن شدید ابتلاء اور خارق عادت نصرت الہی کے ظہور کا ذکر ہے۔بَاب :٣٩: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُم وَقَد مُوا لأَنْفُسِكُمُ الْآيَةَ (البقرة: ٢٢٤) ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا :) تمہاری عورتیں تمہارے لئے ایک کھیتی ہیں اس لئے تم اپنی کھیتی میں آؤ جس طرح چاہو اور اپنی بھلائی کو مقدم رکھو ٤٥٢٦ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۳۵۲۶: اسحاق بن راہویہ ) نے ہم سے بیان کیا لنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ که نفرین تعمیل نے ہمیں خبر دی کہ (عبد اللہ) عَنْ نَافِعِ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ بن عون نے ہمیں بتایا۔نافع سے روایت ہے۔عَنْهُمَا إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب يَفْرُغَ مِنْهُ فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا فَقَرَأَ قرآن پڑھتے تو جب تک اس سے فارغ نہ ہو لیتے سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَانٍ بات نہ کرتے۔میں نے ایک دن اُن سے قرآن کا قَالَ تَدْرِي فِيمَ أُنْزِلَتْ قُلْتُ لَا قَالَ سبق لیا۔انہوں نے سورۃ بقرہ پڑھی۔یہاں تک أُنْزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ مَضَى۔کہ جب اس آیت ( نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ ) پر پہنچے (مجھے) کہنے لگے : تم جانتے ہو یہ آیت کس طرفه: ٤٥٢٧۔کے بارے میں اُتری؟ میں نے کہا: نہیں۔انہوں نے فرمایا: فلاں فلاں بات سے متعلق اتری۔پھر وہ پڑھنے لگ گئے۔٤٥٢٧ وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ۴۵۲۷ اور عبد الصمد بن عبد الوارث) سے { حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْ مروی ہے۔(انہوں نے کہا:) میرے باپ نے 1۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء۸ حاشیہ صفحہ ۲۳۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔