صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 83
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ ہشام نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج سے روایت ہے سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ کہ انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَتَّى کہتے تھے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے إِذَا اسْتَيْسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ( سورة يوسف کی اس آیت کو یوں) پڑھا: حَتّی كُذِبُوا (يوسف: (۱۱۱) خَفِيفَةً ذَهَبَ إِذَا اسْتَيْسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كَذِبُوا بِهَا هُنَاكَ وَتَلَا: حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ (یعنی کُن ہوا کی دال کو) مخفف کرکے اور اس وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللهِ آیت کے وہی معنی کئے جو اس آیت کے ہیں: حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ الَّا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ ( البقرة : ٢١٥) اللَّهِ إِلَّا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ ۔ پھر میں عروہ فَلَقِيتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ بن زبیر سے ملا اور ان سے یہ ذکر کیا۔ لَهُ ذَلِكَ ۔ ٤٥٢٥ : فَقَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ :۴۵۲۵: عروہ نے کہا: حضرت عائشہ فرماتی تھیں: مَعَاذَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا وَعَدَ اللَّهُ رَسُولَهُ مِنْ معاذ اللہ، اللہ کی قسم ! اللہ نے اپنے رسول سے کبھی شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عَلِمَ أَنَّهُ كَائِنٌ قَبْلَ أَنْ کوئی وعدہ نہیں کیا کہ آپ کو یقین ہوتا کہ وہ آپ يمُوتَ وَلَكِنْ لَمْ يَزَلِ الْبَلَاءُ بِالرُّسُلِ کے فوت ہونے سے پہلے ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ بلکہ رسولوں کی آزمائش ہمیشہ ہوتی رہی، یہاں حَتَّى خَافُوا أَنْ يَكُونَ مَنْ مَّعَهُمْ تک کہ وہ ڈرے کہ وہ جو اُن کے ساتھ ہیں کہیں يُكَذِّبُونَهُمْ فَكَانَتْ تَقْرَؤُهَا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ( يوسف: (۱۱۱) كُذِّبُوا مُثَقَّلَةً۔ اُن کو جھوٹا نہ سمجھیں اور (حضرت عائشہ) اس آیت کو یوں پڑھتی تھیں: وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ اطرافه: ۳۳۸۹، ٤٦٩٥، ٤٦٩٦۔ كُذِّبُوا ذال کی تشدید سے۔ ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع الرابع : ” یہاں تک کہ جب پیغمبر (ان سے) مایوس ہو گئے اور (لوگوں نے) خیال کیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا ہے۔“ اوج وو ترجمه حضرت خليفة المسيح الراج الرابع: " یہاں تک کہ رسول اور وہ جو اس کے ساتھ ایمان لائے نے رائے تھے پکار اُٹھے کہ اللہ کی مد د کب آئے گی۔ سنو! یقینا اللہ کی مدد قریب ہے۔“