صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 83
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۸۳ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ ہشام نے ہمیں بتایا۔ابن جریج سے روایت ہے سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ کہ انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سناء قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَتَّى کہتے تھے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے إذَا اسْتَيْسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ (سورۃ یوسف کی اس آیت کو یوں) پڑھا: حَتَّی كذِبُوا (يوسف: ۱۱۱) خَفِيفَةً ذَهَبَ إذَا اسْتَيْسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كَذِبُوا بِهَا هُنَاكَ وَتَلَا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ (یعنی کیا ہوا کی دال کو) مخفف کر کے اور اس وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ الله آیت کے وہی معنی کئے جو اس آیت کے ہیں: الا إِن نَصْرَ اللهِ قَرِيب (البقرة : ٢١٥) فَلَقِيتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلكَ۔تو حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ الله " أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيب - - پھر میں عروہ بن زبیر سے ملا اور ان سے یہ ذکر کیا۔٤٥٢٥: فَقَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ :۴۵۲۵: عروہ نے کہا: حضرت عائشہ فرماتی تھیں: مَعَاذَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا وَعَدَ اللَّهُ رَسُولَهُ مِنْ معاذ اللہ، اللہ کی قسم! اللہ نے اپنے رسول سے کبھی شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عَلِمَ أَنَّهُ كَائِنٌ قَبْلَ أَنْ کوئی وعدہ نہیں کیا کہ آپ کو یقین ہوتا کہ وہ آپ يَّمُوتَ وَلَكِنْ لَمْ يَزَلِ الْبَلَاءُ بِالرُّسُلِ کے فوت ہونے سے پہلے ضرور پورا ہو کر رہے گا۔حَتَّى خَافُوا أَنْ يَكُونَ مَنْ مَّعَهُمْ بلکہ رسولوں کی آزمائش ہمیشہ ہوتی رہی، یہاں تک کہ وہ ڈرے کہ وہ جو اُن کے ساتھ ہیں کہیں يُكَذِّبُونَهُمْ فَكَانَتْ تَقْرَؤُهَا وَظَنُّوا اُن کو جھوٹا نہ سمجھیں اور (حضرت عائشہ) اس أَنَّهُمْ قَد (يوسف: ۱۱۱) كُذِبُوا مُثَقَّلَةً۔اطرافه: ۳۳۸۹، ٤٦٩٥، ٤٦٩٦- آیت کو یوں پڑھتی تھیں: وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا ذال کی تشدید سے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” یہاں تک کہ جب پیغمبر (ان سے) مایوس ہو گئے اور (لوگوں نے ) خیال کیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ”یہاں تک کہ رسول اور وہ جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے پکار اُٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔سنو ا یقینا اللہ کی مدد قریب ہے۔“