صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 82 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 82

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۸۲ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہ نے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه ٢٤٥٧ ، ٧١٨٨- صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ تشريح : وَهُوَ أَلَةُ الْخِصَامِ : الله لَدَدْ سے اسم تفضیل ہے۔ ہے۔ لنڈ کے معنی ہیں شِدَّةُ الْخُصُومَةِ- خصام - خصم کی جمع ہے ، بروزن كَلب وَ كِلاب اور خصام مصدر بھی ہے، خَاصَمَ خصا ما بروزن قَاتَلَ قِتَالاً یعنی خصومت میں نہایت سخت ہے۔ انتہائی شدت مراد ہے اور بمعنی اسم فاعل وارد ہوا ہے، یعنی وَهُوَ لَدِيدُ الْخِصَامِ الْحَرْثُ سے الزرع یعنی کھیتی اور النسل سے انسان و حیوان کی نسل مراد ہے۔ یہ مفہوم بذریعہ ابن ابی حاتم حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ اے عطاء بن ابی رباح کا محولہ بالا قول طبری سے موصولاً منقول ہے۔ ہے۔ (فتح الباری ری : جزء ۸ صفحه آیت ۲۳۶) وَهُوَ الدُّ الْخِصَامِ کے تعلق میں حضرت عائشہؓ کی ا روایت دا دو سندوں سے مروی ہے۔ سفیان سے مراد سفیان ثوری ہیں۔ صراحت ہے کہ حدیث أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللهِ الألد الخصم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے موصولاً مروی ہے۔ پہلی سند حضرت عائشہ تک پہنچ کر لفظ تَرْفَعُہ سے اظہار ہے کہ یہ روایت مرفوع ہے۔ دونوں سندیں ایک دوسری کی مؤید ہیں۔ جس آیت میں النَّسْلَ وَ الْحَرْثَ کی ہلاکت کا ذکر ہے ، وہ آیت وَهُوَ الدُّ الْخِصَامِ کے معا بعد ہے۔ فرماتا ہے : وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرة : ۲۰۶) اور جب وہ حاکم ہوتا ہے تو زمین میں ایسا رویہ اختیار کرتا ہے کہ جس سے اخلاق بگاڑتا اور زراعت و نسل تباہ کر دیتا ہے اور اللہ فساد پسند نہیں کرتا۔ باب ۳۸ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ إِلَى قَرِيبٌ (البقرة: ٢١٥) (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اس کے کہ ابھی تم پر اُن لوگوں کی (سی تکلیف کی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزرے ہیں تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے ؟ انہیں تنگی (بھی) پہنچی اور تکلیف (بھی) اور انہیں خوب خوف دلایا گیا تا کہ (اس وقت کا ) رسول اور اس کے ساتھ (کے) ایمان والے کہہ اٹھیں کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ یاد رکھو! اللہ کی مد د یقیناً قریب ہے۔ ٤٥٢٤ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۴۵۲۴: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ا۔ (تفسير ابن ابي حاتم ، سورة البقرة، آيت وَ إِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا ، جزء ۲ صفحه ۳۶۷) (جامع البيان للطبرى، سورة البقرة آيت وَ إِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدُ فِيهَا، جزء ۳ صفحه (۵۸۲)