صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 82 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 82

صحیح البخاری جلد ۱۰ عَائِشَةَ رَضِيَ Ar ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه ۲٤٥٧، ۷۱۸۸ الْخُصُومَةِ تشریح: وَهُوَ الَةُ الْخِصَامِ : الدُّ، لَدَه سے اسم تفضیل ہے۔لنڈ کے معنی ہیں شِدَّةُ الخصومة خِصَامُ - خَضر کی جمع ہے، بروزن كَلْب وَ كِلَابُ۔اور خِصَامِ مصدر بھی۔بھی ہے، خَاصَمَ خصالها بروزن قَاتَلَ قِتَالاً یعنی خصومت میں نہایت سخت ہے۔انتہائی شدت مراد ہے اور بمعنی اسم فاعل وارد ہوا ہے، یعنی وَهُوَلَدِيدُ الْحَصَاءِ - اَلْحَرْتُ سے الزَّرْعُ یعنی کھیتی اور الگسل سے انسان و حیوان کی نسل مراد ہے۔یہ مفہوم بذریعہ ابن ابی حاتم حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔- عطاء بن ابی رباح کا محولہ بالا قول طبری سے موصولاً منقول ہے۔کے (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۳۶) آیت وَهُوَ الدُّ الْخِصَامِ کے تعلق میں حضرت عائشہ کی روایت دو سندوں سے مروی ہے۔سفیان سے مراد سفیان ثوری ہیں۔صراحت ہے کہ حدیث أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللهِ الألد الخصم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے موصولاً مروی ہے۔پہلی سند حضرت عائشہ تک پہنچ کر لفظ تَرْفَعُهُ سے اظہار ہے کہ یہ روایت مرفوع ہے۔دونوں سندیں ایک دوسری کی مؤید ہیں۔جس آیت میں النِّسْلَ وَ الْحَرْثَ کی ہلاکت کا ذکر ہے ، وہ آیت وَهُوَ الَةُ الْخِصَامِ کے معا بعد ہے۔فرماتا ہے : وَاذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرة : ۲۰۶) اور جب وہ حاکم ہوتا ہے تو زمین میں ایسا رویہ اختیار کرتا ہے کہ جس سے اخلاق بگاڑتا اور زراعت و نسل تباہ کر دیتا ہے اور اللہ فساد پسند نہیں کرتا۔باب ۳۸ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِينَ خَلُوا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَتْهُمُ الْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاءُ إِلَى قَرِيب (البقرة: ٢١٥) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اس کے کہ ابھی تم پر اُن لوگوں کی (سی تکلیف کی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزرے ہیں تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے ؟ انہیں تنگی ( بھی ) پہنچی اور تکلیف (بھی) اور انہیں خوب خوف دلایا گیا تا کہ (اس وقت کا ) رسول اور اس کے ساتھ (کے) ایمان والے کہہ اٹھیں کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔یاد رکھو! اللہ کی مد دیقیناً قریب ہے۔٤٥٢٤ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۵۲۴ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ (تفسير ابن ابي حاتم ، سورة البقرة آيت وَإِذَا تَوَلى سعى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا ، جزء ۲ صفحه ٣٦٧) (جامع البيان للطبرى، سورة البقرة آيت وَإِذَا تَولّى سَفى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا، جزء ۳ صفحه ۵۸۶)