صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 81
صحيح البخاری جلد ۱۰ Al ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کی تشریح کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہو گی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پاتا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہے۔تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے۔طرح طرح کے عذاب ، خوف، حُزن فقر و فاقے، امراض، ناکامیاں، ذلت و ادبار کے اندیشے، ہزاروں قسم کے دکھ ، اولاد بیوی وغیرہ کے متعلق تکالیف اور رشتہ داروں کے ساتھ معاملات میں الجھن، غرض یہ سب آگ ہیں تو مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لئے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ۔“ بَاب :٣٧: وَهُوَ الدُّ الْخِصَامِ (البقرة : ٢٠٥) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) وہ نہایت سخت جھگڑالو ہے وَقَالَ عَطَاء: النَّسْلُ الْحَيَوَانُ۔اور عطاء نے کہا: (يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ میں ) النَّسلَ (البقرة: ۲۰۶) سے مراد حیوان ہیں۔٤٥٢٣ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةً حَدَّثَنَا :۴۵۲۳ قبصہ ( بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْج عَنِ ابْنِ أَبِي سفيان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ تَرْفَعُهُ قَالَ أَبْغَضُ جریج سے ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے، الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْحَصِمُ۔انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ اس حدیث کو مرفوعا بیان کرتی تھیں۔آپ نے فرمایا: اللہ کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ قابل اللہ نفرت وہ شخص ہے جو بڑا لڑنے والا جھگڑالو ہو۔وَقَالَ عَبْدُ اللهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي اور عبد اللہ بن ولید) نے کہا: سفیان ثوری) ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے مجھے بتایا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۱۴۵ - الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخه ۲۴، مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۰،۹)