صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 80
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۸۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کثرت سے پڑھتے سنا۔حضرت اقدس صحیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة : ۲۰۲) اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے، لیکن کس دنیا کو ؟ حَسَنَةُ الدُّنْیا کو جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جائے۔اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حَسَنَاتُ الْآخِرَة کا خیال رکھنا چاہیے، اور ساتھ ہی حَسَنَةُ الدُّنْيَا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصولِ دنیا کا ذکر آ گیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصولِ دنیا کے لئے اختیار کرنے چاہئیں۔دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو، نہ ہم جنسوں میں کسی عار و شرم کا باعث۔ایسی دنیا بے شک حَسَنَةُ الْآخِرَة کا موجب ہوگی۔پس یاد رکھو کہ جو شخص خدا کے لئے زندگی وقف کر دیتا ہے یہ نہیں ہو تا کہ وہ بے دست و پا ہو جاتا ہے۔نہیں، ہرگز نہیں۔بلکہ دین اور للہی وقف انسان کو ہوشیار اور چابکدست بنا دیتا ہے، سستی اور کسل اس کے پاس نہیں آتا۔حدیث میں عمار بن خزیمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے میرے باپ کو فرمایا کہ تجھے کس چیز نے اپنی زمین میں درخت لگانے سے منع کیا ہے۔تو میرے باپ نے جواب دیا کہ میں بڑھا ہوں، کل مر جاؤں گا۔پس اس کو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تجھ پر ضرور ہے کہ درخت لگائے۔پھر میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ خود میرے باپ کے ساتھ مل کر ہماری زمین میں درخت لگاتے تھے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ عجز اور کسل سے پناہ مانگا کرتے تھے۔میں پھر کہتا ہوں کہ ست نہ بنو۔اللہ تعالیٰ حصول دنیا سے منع نہیں کرتا، بلکہ حَسَنَةُ الدُّنیا کی دعا تعلیم فرماتا ہے۔“ (بخاری کتاب الدعوات ، باب قول النبي ﷺ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، روایت نمبر ۶۳۸۹) (ملفوظات جلد اول صفحه ۳۶۵- الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶، اگست ۱۹۰۰ صفحه ۴،۳)