صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 79
۶۵ - کتاب التفسير / البقرة صحیح البخاری جلد ۱۰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بنایا کرتی تھی۔(روایت نمبر ۱۷۰۰) اور عرب دروازے سے داخل ہونا بھی معیوب سمجھتے تھے۔جیسا کہ روایت نمبر ۴۵۱۲ میں گذر چکا ہے۔روایت نمبر ۱۶۶۴ میں یہ جو ذکر آیا ہے کہ مقام عرفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگ متعجب ہوئے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ بھا شان یعنی آپ تو قریش میں سے ہیں۔کیا ہوا کہ آپ حرم سے باہر چلے گئے ہیں۔یہ تعجب تو در حقیقت اسی قدیم رسم کی وجہ سے تھا۔شارحین کا خیال ہے کہ ان کے تعجب کی وجہ قرآنِ مجید کے حکم افيُضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سے ناواقفیت تھی۔(فتح الباری، شرح کتاب الحج، باب ۹۱، جزء ۳ صفحه (۶۵۲) عرب بھی قدیم سے ان جگہوں میں اپنے طریق پر عبادت کیا کرتے تھے۔جس سے یہ ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے ان جگہوں کو عبادت سے برکت دی ہے۔مرورِ زمانہ کے ساتھ عربوں نے توحید الہی کو شرک سے ملوث کر دیا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ملت ابراہیمی بحال فرمائی۔باب ٣٦ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وقِنَا عَذَابَ النَّارِ ) (البقرة : ٢٠٢) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) ان میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کی سزا سے بچائیو ٤٥٢٢ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۴۵۲۲: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبدالعزیز سے، أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبد العزیز نے حضرت انس سے روایت کی۔وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ کرتے تھے: اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور النَّارِ (البقرة: ٢٠٢) طرفه ٦٣٨٩ - یخ ہمیں آگ کی سزا سے بچائیو۔وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النار: یہ دعا مانگنے والوں میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔حضرت انس بیان کرتے