Barahin-e-Ahmadiyya Part V — Page 440
440 BARĀHIN-E-AHMADIYYA - PART FIVE وزرعا ودين الله نبت مُشَرشَرُ ترى الأرض والاموال مبلغ همهم تو دیکھے گا کہ ان کی انتہائی مراد زمین اور مال اور کھیتی ہے۔ اور خدا کا دین اُس بُوٹی کی طرح ہو گیا ہے، جس کو اوپر سے مویشی کھالیں You will find that land and wealth and crops are their ultimate goal, While God's religion has become like stubble left after the cattle have grazed. وتدرى اليهود وما روا في مالهم لا تغير كذالك فيهم سنة اور تو یہود کو جانتا ہے اور یہ کہ ان کا کیا حال ہوا۔ اسی طرح اس قوم میں خدا کی سنت ہے جو بدلی نہیں جائے گی You know about the Jews and what became of them— Similar is God's decree with this nation, and it will not be altered. أرى كل يوم في الفجور زيادة يقل صلاح الناس والفسق يكثر میں ہر ایک روز بدکاریوں میں زیادتی دیکھتا ہوں۔ صلاحیت کم ہے اور فسق بڑھتا جاتا ہے I see evil deeds are on the rise every day; Goodness is diminishing and transgression is growing. أرى كلهم مستأنسين بظلمة وفسق وعن دار العفاف تقتروا میں اُن کو دیکھتا ہوں کہ ظلمت کے ساتھ مانوس ہو گئے ہیں۔ اور فسق کے ساتھ مانوس ہیں اور عفت سے دور ہو رہے ہیں I see that they have attached themselves to darkness and sin, And they are moving away from chastity. شعرتُ لهم لما رأيت مزيةً لهم في ضلال و اعتساف تخيروا میں نے ان کے لئے نظم میں یہ باتیں لکھیں جب کہ میں نے۔ اُن میں گمراہی اور حد سے بڑھنے میں زیادتی دیکھی I composed these words for them in poetic verse when I Beheld them transgressing all extremes in error.