انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 510

انوار العلوم جلد 9 ۵۱۰ ذہب اور سائنس که آدھی رات سوئے اور آدھی رات نماز پڑھے۔ ہے گویا ہر بات میں میانہ روی سکھائی تاکہ وہم پیدا نہ ہو۔ مذہب سائنس کیوں نہیں بتاتا سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر مذہب خدا کی طرف سے ہے تو پھر وہ سائنس کیوں نہیں بتاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت ایسا ہی چاہئے تھا کہ مذہب سائنس بیان نہ کرے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ - الے یعنی اے ایمان والو۔ ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کرو جن کے بتا دینے سے تمہیں نقصان ہو۔ اس پر سوال ہو سکتا ہے کہ خدا کی بتائی ہوئی بات سے نقصان کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہمیں تو بتا دینے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارا دماغی ارتقاء رک جائے گا اور تمہاری خود سوچنے اور غور و فکر کرنے کی قابلیت مر جائے گی اور تمہارا علمی ارتقاء مٹ جائے گا۔ پس ہماری ذہنی ترقی کو قائم رکھنے کے لئے مذہب نے سائنس نہیں بتائی۔ ہاں ضروری باتیں بتادی ہیں جو ایجاد سے معلوم نہ ہو سکتی تھیں یا دین سے معلوم ہوتیں۔ مگر ہر ایک بات بتا دینے سے ہمارے ذہنی ارتقاء کو نقصان ہوتا۔ اور یہ مشاہدہ ہے کہ جس کا ذہنی اتر قاء بند ہوا وہ قوم مٹ گئی۔ مومن کے دو دن بھی برابر نہیں ہوتے بلکہ وہ ہر روز ترقی کرتا ہے۔ اگر مذہب ساری کی ساری باتیں بتا دیتا تو انسان ذہنی طور پر اسی دن مر جاتا کیونکہ اس کا ذہنی ارتقاء بند ہو جاتا۔ اس لئے مذہب میں اصول کو لے لیا گیا ہے اور جزئیات میں اجتہاد کی گنجائش رکھ دی ہے تاکہ انسان کا ذہنی ارتقاء بند نہ ہو۔ کیا مذہب ذہنی ہے یا کے کرتے مودودی ارتقاء بند کرتا ہے کہا جائے گا اگر ذہنی ارتقاء کے لئے ضروری مذہب میں علمی ارتقاء کو کیوں بند کر دیا گیا ہے۔ مذہب نے کیوں الہام کے ذریعے تعلیم دی۔ کیوں مذہب سا نہ ہم پر ان باتوں کو چھوڑ دیا تاکہ ہم خود سوچتے اور غور و فکر کے بعد انہیں حاصل کرتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مذہب کے بہت سے مسائل کی بنیاد رضاء الہی پر ہے نہ کہ سائنس کی طرح شواہد پر۔ اور رضاء کا علم وہ خود جانتا ہے سائنس نہیں بتا سکتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے کسی دوست سے ملنے جائے اور جا کر خاموش رہے تو اس کا دوست کس طرح معلوم کر سکتا ہے کہ میرا مہمان کیا کھائے گا۔ ہاں مہمان اگر خود منہ سے بولے کہ میں فلاں چیز پسند کرتا ہوں تو میزبان کو اس