انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 509

انوار العلوم جلد 9 ۵۰۹ ذہب اور سائنس سورج گرہن ہو گیا۔ صحابہ نے کہا۔ حضور کے صاحبزادہ کی وفات پر سورج نے بھی افسوس کیا ہے اور اس کو صدمہ ہوا ہے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو قانون طبعی کے ماتحت ہے اس کا میرے بیٹے کی وفات سے کیا تعلق؟ گویا اس طرح آپ نے اپنے عمل سے وہم کا ازالہ کیا نہ کہ اُسے پیدا کیا۔ مگر اس کے مقابلہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ سائنس سے وہم پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ علم الجراثیم (BACTERIOLOGY) کی ترقی سے ہوا ہے۔ طب کہتی ہے ہر جگہ جراثیم ہیں۔ ڈاکٹر ذرا ذرا سی بات پر خوف کھاتے اور بار بار ہاتھ دھوتے رہتے ہیں۔ طب کا مطالعہ کیا جائے تو جس مرض کا حال پڑھو ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ مرض ہم کو ہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ان عام علامات (GENERAL SYMPTOMS) کی وجہ سے جو ہر مرض میں مشترک ہوتی ہیں اور ہر انسان میں کم و بیش پائی جاتی ہیں خیال کر لیتا ہے کہ مجھ میں یہ مرض ہے حالانکہ اس مرض کی خاص علامات (SPECIAL SYMPTOMS) اس میں موجود نہیں ہوتیں۔ ہے اس اسلام نے اس قسم کے وہم کو جو کمزوری دماغ کا نتیجہ ہوتا ہے اور کیا ہے۔ وہم ہمیشہ غلو سے ہوتا ہے مگر اسلام نے ہر بات میں میانہ روی سکھلا کر وہم کا ازالہ کیا ہے۔ فرمایا۔ نماز میں میانہ روی اختیار کرو ہر وقت نماز نہ پڑھتے نہ پڑھتے رہو۔ اور تین وقت نماز پڑھنے سے منع کر دیا۔ علی پھر جو روزانہ روزہ رکھے اس کو دوز رکھے اس کو دوزخ ملتی ہے۔ ۱۸ مگر روزہ تو مگر روزہ تو خدا کے لئے رکھا جاتا ہے کے بدلہ میں دوزخ کیسی۔ اس کی غرض بھی صرف وہم کو دور کرنا تھی۔ کیونکہ غلو کرنے سے دماغ کمزور ہو کر وہم پیدا ہو جاتا ہے۔ اس واسطے فرمایا۔ وَ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ - و تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔ اس لئے نفس کشی نہ کرو۔ فرمایا: جو حدیث شریف میں آتا ہے کہ دو صحابی آپس میں بھائی بھائی بنے ہوئے تھے۔ ایک دن ایک دوسرے کی ملاقات کے لئے گیا تو دیکھا۔ اس کی بیوی متبدل حالت میں ہے۔ وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا تمہارے بھائی کو میری کچھ حاجت نہیں۔ وہ تو ہر روز دن کو روزہ رکھتا اور رات کو نماز پڑھتا رہتا ہے۔ صحابی نے اپنے دوست سے کہا۔ دیکھو تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ ہر ایک کو اس کا حق دینا چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے قائم اللیل اور صائم الدھر رہنے کو ناپسند فرمایا۔ اور فرمایا۔ زیادہ سے زیادہ کوئی شخص ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھ سکتا ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ عبادت یہ ہے