انوارالعلوم (جلد 9) — Page 511
انوار العلوم جلد 3 ۵۱۱ ذہب اور سائنس کی رضاء کا علم ہو سکتا ہے پس رضاء الہی کے معلوم کرنے کا ذریعہ الہام ہے۔ پھر مذہب کا تعلق ابد الآباد زندگی سے ہے اور سائنس کا صرف موت تک۔ اس لئے سائنس کی ایجادوں مثلا ریل اور لاسلکی کی عدم موجودگی میں انسان کو نقصان نہ تھا۔ مگر دین کے بغیر اس کے کامل ہونے سے پہلے ہی دنیا تباہ ہو جاتی اور اخلاق فاضلہ اور روحانیت کے متعلق تجربے کرتے کرتے لاکھوں آدمی دوزخ میں چلے جاتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اصولی باتوں کا علم جو عقل سے بالا تھیں الہام کے ذریعہ دیا اور جزئیات کو ہمارے عقلی اجتہاد کے لئے چھوڑ دیا۔ علاوہ ازیں بعض مسائل نیچرل قوانین سے بالا ہیں۔ مثلاً صفات اللهی، ملائکہ کا وجود، بعث بعد الموت وغیرہ۔ ان کو عقل اور سائنس سے معلوم کرنا مشکل تھا۔ یہاں پر عقل بالکل اندھی تھی۔ اور اگر کچھ ثابت کرتی تو زیادہ سے زیادہ یہ بتائی کہ خدا اور ملائکہ کا وجود ہونا چاہئے نہ یہ کہ واقعی موجود ہے۔ کیونکہ ” ہونا چاہئے" تو عقل سے ہو سکتا ہے مگر ” ہے" کے لئے مشاہدہ کی ضرورت ہے جو الہام کے بغیر ممکن نہیں۔ ان وجوہات سے الہام کی ضرورت تھی۔ سائنس اور مذہب کا دائرہ الگ الگ ہے سائنس کالا از مبادیات پر ہے اور مذہب کا تعلق مافوق المادیات پر۔ مذہب میں یہ چھ باتیں داخل ہیں۔ اخلاق، تمدن، سیاست، الوہیت، روحانیت، حیات بعد الموت اب یہ ساری کی ساری باتیں مادیات سے بالا ہیں اس لئے سائنس کے شواہد سے ان پر استدلال نہیں ہو سکتا۔ پس امور مذہبی کی قطعی تحقیق سائنس سے نہیں ہو سکتی۔ مثلاً خدا کا وجود ہے۔ اب یہ وجود چونکہ مادیات سے بالا ہے اس لئے اس کی ہستی کا ثبوت اور اس کی صفات کا علم سائنس کے تجارب سے نہیں مل سکتا۔ ہاں الہام کے ذریعے اس کی صفات کا علم ہو سکتا ہے۔ پس یہ کہنا کہ خدا کا وجود سائنٹیفک تجربات کے خلاف ہے غلط ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ سائنس کے تجارب سے معرفت الہی حاصل نہیں ہو سکتی۔ سائنس خدا کی نفی نہیں کرتی ہیں سائنس دان یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں سائنس کے تجربات سے معرفت الہی کا کچھ چھ پتہ نہیں چلا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ سائنس کی تحقیق خدا کے وجود کی نفی کرتی ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کہیں گے تو خود گرفت میں آئینگے۔ اس لئے کہ پروفیسر ہکسلے " (HUXLEY) جس نے