انوارالعلوم (جلد 9) — Page 434
انوار العلوم جلد ؟ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء باقاعدگی کے ساتھ حرکت دیتا رہے گا۔ اس متواتر اور باقاعدہ حرکت دینے کا آئندہ زمانہ میں یہ نتیجہ نکلے گا کہ اس کا ہاتھ مضبوط ہو جائے گا۔ اس کے ہاتھ میں ایک طاقت پیدا ہو جائے گی۔ اب انسان کی اصل غرض تو یہ ہوتی ہے کہ وہ ہلاک نہ ہو جائے۔ عارضی تکلیف مد نظر نہیں ہوتی۔ عقمند آدمی عارضی تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتا۔ مثلاً اس وقت آپ لوگ سردی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ سردی کی عارضی تکلیف برداشت کر رہے ہیں۔ اسی طرح طالب علم، علم حاصل کرنے کے لئے راتوں کو جاگتا ہے محنت کرتا ہے۔ وہ اس تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتا۔ اس لئے کہ اس کے نتیجہ میں آرام اور عزت کا لمبا زمانہ حاصل ہو گا اور لمبی تکالیف سے بچ جائے گا۔ عارضی تکلیف لمبی تکلیف کے مقابلہ میں تکلیف ہی نہیں خیال کی جاتی۔ پس دُعا کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ اس دنیا میں انسان کے اندر اگلے جہان میں کام کرنے کے لئے قابلیت پیدا ہو جائے۔ گو یہاں اس کی دُعائیں قبول نہ ہوں لیکن وہ اگلے جہان میں کام آنے والی حسنات کے بہی کھاتہ میں درج کی جاتی ہیں۔ تو دُعا کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ انسان کو اور انعامات کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ چوتھا فائدہ دعا کا یہ ہے کہ دعا اللہ تعالی پر توکل کا نشان ہے کیونکہ بندہ دعا کے وقت۔ ما اپنے معجز کا اقرار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور یہ اقرار کرتا ہے کہ تو ہی قادر و توانا ہے۔ خدا کے فضل کے ہم کبھی امیدوار نہیں ہو سکتے جب تک اس کے حضور اقرار نہ کریں کہ تو طاقتور ہے اور ہم کمزور ہیں۔ یہ توکل کا مقام ہے جو بغیر دعا کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ پانچواں فائدہ دعا کا یہ ہے کہ ڈا کے نتیجہ میںاللہ تعالی کی قدرت کے یقینی نمونے ہمیں ملتے ہیں۔ ہمیں ہیں۔ میں نے اپنی ذات میں کئی مشاہدے کئے ہیں۔ ایک دفعہ ایک دوست نے مجھے مجملاً ایک مصیبت کی اطلاع دی اور دُعا کے لئے کہا۔ مجھے اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ فلاں مصیبت ہے اور حالات نہیں لکھے تھے۔ ان دنوں ان کی ہمشیرہ بھی بیمار رہتی تھیں اس لئے میں نے خیال کیا کہ ان کی ہمشیرہ زیادہ بیمار ہو گی۔ میں نے دُعائیں کیں تو مجھے رویا میں معلوم ہوا کہ کوئی کہتا ہے کہ قانونی غلطی کی وجہ سے تمام حقوق ضائع ہو گئے اور گورنمنٹ کی گرفت کے نیچے آ گئے لیکن اگر وہ اوکل کریں گے اور گھبرائیں گے نہیں تو اللہ تعالٰی ان کے ان معاملات کو بالکل الٹ دے گا اور اُن کے حق میں بہتر حالات پیدا کر دے گا۔ میں نے ان کو یہی لکھ دیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ قریب تھا کہ واقعہ میں ان کے حقوق ضائع ہو جائیں اور گرفت کے