انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 435

انوار العلوم جلد 8 ۴۳۵ تقاریر جلسه سالانه ۶۱۲۲۶ نیچے آئیں۔ میری طرف انہوں نے لکھا کہ اس قسم کے حالات پیدا : ، حالات پیدا ہو رہے ہیں ؟ کہ مجھے خطرہ ہے کہ میرے پہلے تمام حقوق تباہ ہو جائیں۔ میں نے انہیں لکھا کہ آپ تو کل کریں اور گھبرائیں نہیں۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ ان کے مد مقابل انگریز تھا یہ حالات بالکل بدل گئے حتی کہ اس انگریز نے میری طرف لکھا کہ مجھے مصیبت سے بچائیے۔ جب ہم روزانہ دعاؤں کی قبولیت کے نمونوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہم کیسے ان کے اثرات سے انکار کریں۔ دعا کا یہ ہے کہ اس سے دل میں قوت اور طاقت پیدا ہوتی ہے اور بزدلی دور ہوتی چھٹا فائدہ ہے کیونکہ بزدلی مایوسی سے پیدا ہوتی ہے لیکن دعا کرنے والا مایوس نہیں ہوتا۔ جو شخص دعا کرے گا اللہ کے حضور یہ یقین لے کر جائے گا کہ خدا ہے اور وہ میری مدد یا حاجت روائی کر سکتا ہے اس سے اس کے دل میں تسلی ہو گی جس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ وہ جزع فزع سے محفوظ رہے گا اور دوسرے سامان بھی کام کے لئے مہیا کرے گا۔ ساتواں فائدہ یہ ہے کہ بعض وقت دعاکا قول نہ ہوناہی اس کا قبول ہونا ہوتا ہے۔ بہت ہی باتیں ہیں جن کو انسان مفید سمجھتا ہے لیکن وہ مصر ہوتی ہیں۔ اس لئے بعض دفعہ دعا کا قبول نہ کرنا ہی انسان کے لئے رحمت ہوتا ہے۔ آٹھواں فائدہ یہ ہے کہ جس جگ پر تدا میں رہ جاتی ہیںوہاں دعا کام کرتی ہے۔ جب تدابیر اور ظاہری اسباب کا سلسلہ منقطع نظر آتا ہے اس وقت دعا اپنا اثر دکھاتی ہے۔ میرے ساتھ بیسیوں دفعہ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جن میں تمام دنیوی سامان کٹ گئے اس وقت دعا کے بعد میرے خدا نے میری دُعا سنی اور نہ صرف دُعاسنی بلکہ بشارت دی۔ کے بعد جو نتیجہ ! نواں فائدہ دعا کا یہ ہے کہ دعا اللہ تعالی کی ہستی کاثبوت ہوتی ہے دعا ماننے کے بعد پیدا ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر زیادہ ثبوت ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ ہی آپ کوئی کام ہو جائے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعا تو جہ سے ہوتی ہے اور توجہ خود اثر پیدا کرتی ہے تو کیوں نہ کہیں کہ جو کام ہوا ہے وہ توجہ کے اثر کا نتیجہ ہے۔ بے شک یہ اہم سوال ہے جس کا میں یہ جواب دیتا ہوں کہ علم النفس کے ماہر یہ کہتے ہیں کہ توجہ اس وقت اثر کرتی ہے جب ذہن میں یہ لایا جائے کہ ہر بات یوں ہو گئی۔ توجہ کے لئے یہ سکھاتے ہیں کہ تم ذہن میں یہ خیال رکھو کہ یہ بات یوں ہو گئی۔ لیکن یہاں تو اس کے اُلٹ دُعا کرنے والا یہ ذہن میں پیدا کرتا ہے کہ یا اللہ ! میں کچھ نہیں ہوں مجھ سے یہ کام نا ممکن ہے تو ہی یہ کام کر سکتا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ