انوارالعلوم (جلد 9) — Page 433
انوار العلوم جلد 9 ٣٣ نقار یه جلسه سالانه ۱۹۳۶ء کوئی اثر نہیں۔ نہ یہ درست ہے کہ ہر دُعا منظور کی جاتی ہے۔ بلکہ دُعاؤں کے اثرات حکمت اور دوسرے قوانین کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور دعاؤں میں بہت سے فوائد ہیں جن کی خاطر دعا کا حکم ہے۔ ترا میں ہے اور پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ دعا اللہ تعالی کی تقدیر خاص کا بندہ کے منہ سے اقرار کر لیتی ۔ خدا تعالیٰ کی صفات پر یقین دلاتی ہے کیونکہ انسان جب دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قادر یقین کرتا ہے کہ وہ اس کی مصیبت کو دور کر سکتا ہے یا اس کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے تو اس طرح بندہ کو خدا تعالیٰ کی تقدیر خاص پر ایمان پیدا ہوتا ہے اور اگر اس کی ایک دعا بھی قبول ہوتی ہے تو وہ اس کے دل میں یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ اس کا خدا وہ خدا ہے جو اس کے لئے اپنے قانون کو بھی بدل سکتا ہے۔ دوسرا فائدہ دعا کا یہ ہے کہ انسان جب دعا کرتا ہے تو اس وقت اقرار کرتا ہےکہ اللہ تعالی میرے قریب ہے اور میری آواز کو سنتا ہے۔ دُعا کی اصل غرض یہ نہیں کہ اس کی عارضی ضروریات ہی پوری ہوں بلکہ اس کی اغراض میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچا جائے اور اس کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ اس کو یہ یقین ہو اور اقرار بھی کرے کہ اللہ تعالٰی اس کے قریب ہے۔ چنانچہ اس غرض کو اللہ تعالی قرآن کریم میں اس طرح بیان فرماتا ہے۔ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبُ ) کہ جب بنده میرے حضور دعا کرتا ہے تو میں اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور اس کی آواز کو سنتا ہوں۔ پس دُعا کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بندہ کو اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے قرب کا مقام حاصل ہو اور وہ اسے اپنی گود میں لے لے۔ جس طرح ایک بچہ جس کو دوائی پلائی جا رہی ہو یا اس کا آپریشن ہو رہا ہو تو وہ ہائے ہائے کرتا ہے۔ اس کے والدین کو اسے اس موجودہ تکلیف سے تو سے تو نہیں چھڑا سکتے مگر اسے اپنی گود میں لے لیتے ہیں جس سے بچہ کو تسلی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ اگر دُعا کسی وجہ سے نہ بھی قبول کرے تو بھی اسے اپنی گود میں لے لیتا ہے۔ تیسرا فائدہ دعا کا یہ ہے کہ انسان کی دعا اس کی حسنات میں لکھی جاتی ہے۔ دراصل انسان کے اعمال کے دو نتیجے ہوتے ہیں۔ ہر کام کے دو نتیجے نکلتے ہیں۔ ایک نتائج فوری ظاہر ہوتے ہیں اور ایک نتائج آئندہ زمانہ میں جمع ہو کر نکلتے ہیں۔ مثلا انسان ہاتھ کو حرکت دیتا ہے۔ اس حرکت کا ایک تو فوری نتیجہ نکلے گا اور ایک نتیجہ آئندہ زمانہ میں نکلے گا جب ہاتھ کو متواتر