انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 432

انوار العلوم جلد 9 ۴۳۲ التقاریر جلسه سالانه ۱۹۳۶ء ہوا۔ اور طبیب کے علاج کو ناقص کے تو یہ شخص غلطی پر ہو گا کیونکہ طبیب نے علاج کے ساتھ کچھ شرائط بتائی تھیں جن کے پورا نہ کرنے کی وجہ سے اسے صحت نہیں ہوئی۔ پھر کہتے ہیں کہ جب بعض دفعہ تمام شرائط کے پورے کرنے کے باوجود لوگ مر جاتے ہیں تو کیا لوگ علاج چھوڑ دیا کرتے ہیں یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ دعاؤں میں اثر نہیں اسی طرح باوجود بعض دعاؤں کے قبول نہ ہونے بھی دُعاؤں کے اثر سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ دعا کی وہ حقیقی غرض نہیں جو عام طور پر خیال کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ بس جو کچھ مانگا جائے وہ ضرور مل جائے۔ بلکہ حقیقی غرض دعا کی ایمان اور تزکیہ نفس کا پیدا کرنا ہے۔ دُعا کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالی پر ایمان حاصل ہو اور اس کے دل میں صفائی اور پاکیزگی پیدا ہو اور یہی غرض پیدائش انسانی کی ہے جو کئی ذرائع سے پوری کی جاتی ہے ہے۔ ان میں سے ابتلاء اور مشکلات بھی ہیں۔ اس دنیا میں انسان کی پیدائش کی حقیقی غرض پوری کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے اسے تیار کیا جاتا ہے۔ تیاری کے اسباب میں ابتلاء بھی داخل ہیں۔ غرض ابتلاء بھی انسان کی زندگی کا مدعا پورا کرنے کے لئے یعنی اس کے تزکیہ نفس کے لئے ضروری ہیں۔ اب اگر اس کی ہر منہ مانگی چیزا سے مل جائے یا ہر دعا اس کی منظور ہو جائے تو وہ ابتلاء پھر کس پر آئیں گے اور اس کا مدعا کیسے پورا ہو گا۔ اور ابتلاء کس چیز کا نام ہے۔ یہی ہے نا مثلاً بیماری، موت، لڑائی، بڑے لوگوں کا ظلم، ماتحتوں کی بغاوت، افلاس، غربت، اور انہی چیزوں کے لئے انسان دُعا کرتا ہے۔ انسان دُعا کرتا ہے یا اللہ ! میری فلاں مصیبت دور ہو جائے یا بیماری دور ہو جائے۔ فلاں ضرورت پوری ہو ۔ فلاں مال مل جائے یا فلاں رشتہ دار بیچ جائے۔ اب اگر ساری کی ساری ہی دُعائیں قبول ہوں اور انسان پر کوئی ابتلاء نہ آئے تو کیا اس کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ مثلا نہ تو کوئی بیمار ہو اور نہ ہی کسی پر موت آئے اور پھر کیا سارے انعامات لیتے ہوئے بھی یہ کبھی کہے گا کہ یا اللہ ! میرے دل کی صفائی بھی ہو۔ تو اصل بات یہ ہے کہ اصل غرض تو صفائی قلب ہے جو ابتلاء کے ذریعہ ہوتی ہے۔ پیدائش انسانی کی غرض دل کی صفائی ہے جس کا ایک طریق ابتلاء بھی ہے۔ اس لئے اس غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض دعائیں بظاہر قبول بھی نہیں ہوتیں اور ابتلاء اور مشکلات نہیں ملتے۔ دیکھو انبیاء پر سب سے بڑھ کر مصائب و مشکلات آتے ہیں۔ کیا وہ دعائیں نہیں کرتے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھ پر تمام کو انبیاء سے بڑھ کر مصائب آئے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے جب وہ بھی دُعا جب وہ بھی دُعائیں مانگتے تھے۔ تو معلوم ہوا کہ دعا کی صرف وہی غرض نہیں جو عام طور پر سمجھی گئی ہے اور نہ یہ صحیح ہے کہ دُعاؤں کا