انوارالعلوم (جلد 9) — Page 387
انوار العلوم جلد 8 ۳۸۷ حق اليقين (۳) کیا رسول کریم ا حضرت عمر سے کمزور تھے کہ حضرت عمر سے ڈر کر آپ نے پہلی بات کا اعلان نہ کرایا ؟۔ " مصنف صاحب ہفوات نے ۔ نے خود مضمون حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے کیونکہ وہ اس کی تشریح کرتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ سردست جو توحید خدا کا بھی اقرار کرے وہ داخل امن ہے اس کی جان و مال کو کوئی جو کھوں نہیں"۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ ان کو نہ قرآن کریم کا علم ہے نہ تاریخ کا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اسلام پر کوئی بھی ایسا زمانہ نہیں آیا کہ اس نے صرف توحید پر ایمان لانے کو موجب نجات قرار دیا ہو۔ قرآن کریم کی نہایت ہی ابتدائی سورتوں میں بھی ایمان اور عمل دونوں کو نجات کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ العلق جو سب سے پہلی سورۃ ہے جو رسول کریم پر نازل ہوئی اس میں اللہ تعالی فرماتا ہے گلا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَّاهُ اسْتَغْنَى إِنَّ إلى رَبِّكَ الرُّجْعَى - اَرَعَيْتَ الَّذِي ي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى واللہ یعنی انسان سرکش ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی مدد سے مستغنی سمجھتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہر ایک امر میں لوٹنا پڑتا ہے۔ کیا تجھے اس شخص کا حال معلوم ہے جو ایک بندہ کو جب وہ نماز پڑھتا ہے روکتا ہے۔ سورہ شمس میں کہ وہ بھی مکیہ ہے فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَتْهَا الله جو شخص اپنے نفس کو پاک کرے گا وہ کامیاب ہو گا اور جو اسے روند ڈالے گا وہ ناکام و نامراد رہے گا۔ پھر سورة التين مكيه میں فرماتا ہے إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا اللَّهَ لِحْتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ یعنی سب لوگ تباہ ہوں گے سوا۔ سوائے ان لوگوں کے کہ ایمان بھی لائیں اور نیک منُونٍ ں عمل بھی کریں انہیں لازوال بدلے ملیں گے۔ سورۃ قارعہ میں جو وہ بھی مکی سورۃ ہے فرماتا ہے فَاما مَنْ تَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيْشَةٍ رَاضِيَةٍ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةً ٣ جس کے نیک عمل زیادہ ہوں گے وہ تو پسندیدہ زندگی بسر کرے گا اور جس کے نیک عمل بدیوں سے کم ہوں گے اس کا مقام دوزخ ہو گا۔ ان آیات سے ثابت ہے کہ شروع سے اسلام ایمان اور اعمال کی اصلاح پر زور دیتا چلا آیا ہے۔ اور کسی وقت بھی اس نے یہ رخصت نہیں دی کہ صرف لا اله الا الله اللہ پر ایمان لے آؤ۔ کیو نکر درست ہو سکتا ہے۔ اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ کوئی زمانہ اسلام پر ایسا بھی آیا ہے تب بھی اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کیونکہ جیسا کہ تاریخ اسلام کے واقف لوگ جانتے ہیں حضرت ابو ہریرہ ہجرت کے بعد رسول کریم ﷺ کی وفات ۔ وفات سے صرف ساڑھے اڑھے تین سال پہلے ایمان لائے تھے یعنی صلح حدیبیہ