انوارالعلوم (جلد 9) — Page 386
1 انوار العلوم جلد 9 ۳۸۶ حق الیقین صاحب ہفوات کو ممیوں کے بزرگوں کو گالیاں دینے کا حق نہیں انہیں اپنے ہی بھائی بندوں کو کو سنا چاہئے۔ یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ باوجود اس کے کہ اس ۔ اس حدیث کا جھوٹا ہونا روز روش اروز روشن کی طرح ثابت ہے۔ میرے نزدیک اس کا احراق اور احکاک جائز نہیں کیونکہ جیسا کہ میں شروع میں ثابت کر چکا ہوں کسی کا حق نہیں کہ کسی مصنف کی تصنیف میں اپنی مرضی کے مطابق کوئی تغیر کر دے۔ اگر مصنف صاحب ہفوات فرمائیں کہ جب حدیث جھوٹی ثابت ہو گئی تو اس کے رکھنے کا کیا فائدہ؟ مگر میں کہتا ہوں کہ فائدہ ہو نہ ہو تصنیف ایک امانت ہے اور اس میں تغییر ایک خیانت ہے جو مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ لیکن یہ بھی درست نہیں کہ ایسی حدیث کے رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس میں فائدہ ہے۔ ایسی احادیث انسانی اخلاق کے اس تاریک پہلو پر روشنی ڈالتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ اپنے خیال کی تائید میں خدا کے مقدس رسولوں پر جھوٹ باندھنے سے بھی پر ہیز نہیں کرتے اور اس امر کے معلوم ہونے سے عقل مند انسان بہت سے گڑھوں سے بچ جاتا ہے۔ رو بهستان در شبکی عقل رسول الل و گستاخی حضرت عمر ایک اعتراض مصنف صاحب ہفوات نے یہ کیا ہے کہ مسلم کتاب الایمان جلد اول میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ کو اپنی جوتیاں دے کر کہا کہ جو شخص تم کو ملے اسے کہدو کہ جو لا اله الا الله کے وہ جنت میں داخل ہو گا حضرت رت عمر سب سے پہلے ان کو ملے۔ ان کو حضرت ابو ہریرہ نے یہ بات پہنچائی تو انہوں نے ابو ہریرہ کے اس زور سے گھونسا مارا کہ وہ گر پڑے اور پھر فرمایا کہ واپس چلے جاؤ ۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے پاس واپس آکر شکایت کی اتنے میں حضرت عمر بھی پہنچ گئے۔ رسول کریم اللہ نے ان سے ابو ہریرہ کو مارنے کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ان سے کہا تھا کہ اس طرح لوگوں کو کہدو؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس پر حضرت عمر نے کہا کہ ایسا نہ کیجئے ورنہ لوگ خدا تعالیٰ کی عبادت ترک کر دیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا جانے دو 109۔ مصنف صاحب ہفوات نے اس حدیث پر یہ اعتراض کئے ہیں (۱) کیا صحابہ جھوٹ بولا کرتے تھے کہ رسول کریم ال کو ابو ہریرہ کے ہاتھ میں اپنی جوتیاں دینی پڑیں تاکہ لوگ ان کو جھوٹا نہ سمجھیں؟ (۲) کیا حضرت عمر ایسے گستاخ تھے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے ایلچی کو مارا؟