انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 388

انوار العلوم جلد 8 ۳۸۸ حق الیقین اور جنگ خیبر کے درمیان کے زمانہ میں۔ دوسرے جیسا کہ اس حدیث کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے اور دوسری تاریخی شہادتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے یہ واقعہ رسول کریم ﷺ کی وفات سے صرف دو سال پہلے کا ہے جب کہ مدینہ پر بعض مسیحی قبائل کے حملہ کی افواہیں گرم تھیں ان ایام میں رسول کریم ال کا ذرا بھی آنکھوں سے اوجھل ہونا مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا کر دیتا تھا۔ پس جو واقعہ کہ عرب کی فتح کے بعد اور مشرکوں کے مغلوب ہو جانے کے بعد ہوا ہے۔ اس کی نسبت یہ کہنا کہ اس کا یہ مطلب ہے ہے کہ کہ ۔ سردست اتنا کافی ہے کہ لا اله الا اللہ الله کہہ کہہ دو کس قدر حماقت اور بے وقوفی کی بات ہے۔ کیا اس قسم کی آسانیاں ابتداء میں دی جاتی ہیں یا آخر میں؟ پس اس حدیث کا وہ مطلب ہرگز نہیں جو مصنف ہفوات نے سمجھا ہے۔ اور اسی غلط مطلب کا نتیجہ ہے کہ انہیں دَخَلَ الْجَنَّةَ کا ترجمہ یہ کرنا پڑا ہے کہ وہ داخل امن ہے اس کی جان ومال کو کوئی جو کھوں نہیں۔ جنت کا یہ ترجمہ خود مصنف ہفوات کی پریشانی پر دلالت کرتا ہے نعماء دنیوی کا نام تو بے شک جنت رکھا جا سکتا ہے لیکن یہ مضمون بیان کرنے کے لئے کہ ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے جنت کے لفظ کا استعمال صرف انہی کے دماغ کی اختراع ہے۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس حدیث کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جو صرف لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہدے وہ جنت میں داخل ہو جائے گا نہ یہ مطلب کہ اسے ہم کچھ نہیں کہیں گے تو اب سوال یہ ہے کہ اس کا کیا مطلب تھا؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک تعلیم کا ایک مرکزی نکتہ ہوتا ہے اور اختصار کے لئے کبھی اس مرکزی نکتہ کو بیان کر دیا جاتا ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ تمام تفصیلات اس کے اندر شامل ہیں اور یہی نکتہ تھا جسے سمجھانے کے لئے رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ کو بھیجا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تنہائی کے مقام پر توحید کے حقائق پر غور کرتے ہوئے رسول کریم کو جوش پیدا ہوا ہے کہ میں ایک نئے رنگ میں امت کو توحید کے نکتہ مرکزی ہونے کی طرف توجہ دلاؤں اور اس کے لئے آپ نے یہ طریق اختیار کیا کہ ایک صحابی کو اس کا اعلان کرنے کے لئے مقرر کر دیا۔ حضرت عمر راستہ میں ملے تو آپ کو دو خیال پیدا ہوئے (۱) اگر اس پیغام کو محدود معنوں میں لیا جائے (جن معنوں میں کہ مصنف ہفوات نے قلت تدبر کی وجہ سے لیا ہے ) تو نہیں رسول کریم اکبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف لا لا اله الا اللہ کہنا کافی ہے جب که قرآن و تعلیم رسول کریم ال ان معنوں کو رد کر رہے ہیں۔ پس ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو سمجھنے میں غلطی لگی ہے اور ان کو روکنا ضروری ہے (۲) اگر اس کی بجائے اس کے عام معنے لئے وه درست