انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 365

انوار العلوم جلد 9 ۳۶۵ حق الیقین ۹۴ وَ خَارِجًا مِنْهَا - عورت عورت سے مباشرت کرنا اس ۔ اسے چھونے کو کہتے ۔ ستے ہیں۔ اور کبھی اس کے معنے جماع کے بھی ہوتے ہیں۔ پھر صاحب لسان نے اس حدیث کی نسبت لکھا ہے وَ فِی الْحَدِيثِ أَنَّهُ كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمُ أَرَادَ بِالْمُبَاشَرَةِ الْمُلَامَسَةِ - 20 یعنی حدیث میں جو آیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لیتے تھے اور مباشرت کرتے تھے اس سے مراد چھونا اور ہاتھ لگانا ہے نہ کچھ اور۔ لسان العرب لغت کی کتابوں میں سے اہم ترین کتاب ہے اور اس کی شہادت کے بعد مجھے کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں صرف اس قدر نصیحت کر دینا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ انسان کو اعتراض کرتے وقت اس امر کو ضرور مد نظر رکھنا چاہئے کہ وہ ایسی بات نہ کیے جو قائل کے منشاء کے خلاف ہو۔ اور اگر دل سے انصاف اٹھ چکا ہو تو کم سے کم ایسی بات تو نہ کیے جس کا بطلان بالبداہت ظاہر ہو۔ کیونکہ اس قسم کی باتوں کا لکھنا اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ لکھنے والا اپنی عداوت میں حد سے بڑھا ہوا ہے اور جن کے فائدے کے لئے وہ بات کہتا ہے ان پر اس کی حرکت کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ان کے دل ایسے شخص کی نسبت جذبہ حقارت و نفرت سے بھر جاتے ہیں۔ میں مصنف ہفوات کی طرز تحریر سے سمجھتا ہوں کہ ان پر کوئی نصیحت جو غیر کے منہ سے نکلی ہوئی ہو اثر نہیں کر سکتی اس لئے میں انہیں کی مسلّمہ کتب کے حوالہ سے بتاتا ہوں کہ مباشرت حرام نہیں ہے جیسا کہ وہ لکھتے ہیں بلکہ جائز ہے۔ اور یہ بھی کہ مباشرت کے معنے کسی ایسی حرکت کے ہی نہیں ہیں جو جماع کے مشابہ ہو بلکہ اس سے مراد صرف عورتوں کا چھوٹنا یا ان کے پاس بیٹھنا بھی ہے۔ فروع کافی جلد اول کتاب الصیام میں ایک باب ہے ۔ بَابُ الصَّائِمُ يُقَبِّلُ أَوْ يُبَاشِرُ یعنی اس امر کے متعلق باب کہ روزہ دار بوسہ دے یا مباشرت کرے۔ اور آگے یہ حدیث لکھی ہے عَنِ الْحَلَبِي عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يَمُسُّ مِنَ الْمَرْأَةِ شَيْئًا أَيُفْسِدُ ذَلِكَ صَوْمَهُ أَوْ يَنْقُضَهُ فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ لِلرَّجُلِ الثَّابِ مَخَافَةً أَنْ يَسْبِقَهُ الْمَنِيُّ 2 یعنی حلبی نے امام ابو عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ آپ سے ایک ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جو عورت کو کسی طرح چھوتا ہے کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا یا خراب ہو جائے گا؟ فرمایا یہ بات نوجوان کے لئے مکروہ ہے اس ڈر سے کہ اس کی منی خارج نہ ہو جائے اس حدیث سے دو باتیں ظاہر ہیں ایک تو یہ کہ مباشرت کے معنی عورت کو چھونے کے ہیں نہ کہ کچھ اور ۔ کیونکہ مباشرت کا باب مقرر کر کے عورت کے چھونے کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے دوسرے یہ کہ