انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 366

انوار العلوم جلد 9 ۳۶۶ حق الیقین مباشرت حرام نہیں بلکہ جو ان کے لئے مکروہ اور بوڑھے کے لئے جائز ہے اور جوان کے لئے بھی اس ڈر سے مکروہ ہے کہ اس سے کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو روزہ کے ٹوٹنے کا موجب ہو۔ لیکن اگر یہ وجہ کسی میں نہ پائی جائے تو کراہت کی پھر کوئی وجہ نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جو وجہ بتائی گئی ہے وہ کسی بیمار میں ہی پائی جاسکتی ہے تندرست اور صحیح القوئی آدمی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا جو بیان کیا گیا ہے پس در حقیقت کسی کے لئے بھی سوائے قلیل استثنائی صورتوں کے مباشرت منع نہیں رہتی۔ اور مباشرت کو حرام قرار دینا یا تو مصنف ہفوات کی جہالت پر یا شریعت سازی کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش پر دلالت کرتا ہے۔ مصنف صاحب ہفوات نے جو مضحکہ اوپر کی روایات بیان کر کے اُڑایا ہے اس کا جواب مکمل نہ ہو گا اگر میں اس جگہ کتب شیعہ سے چند ایک روایات درج نہ کردوں۔ کافی جلد اول صفحہ ۳۷۷ پر کتاب روزہ میں امام ابو عبد اللہ کا فتویٰ درج ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا عورت کھانا پکاتے ہوئے کھانے کا مزہ روزے میں چکھ سکتی ہے ؟ تو انہوں نے کہا لا ؟ نے کہا لا باس - 26 اس میں کوئی حرج نہیں اور اسی حدیث میں لکھا ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا عورت روزہ میں اپنے بچہ کو منہ میں کھانا چبا کر دے سکتی ہے ؟ تو انہوں نے کہا لا باس ۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اس کے بعد حسین بن زیاد کی روایت لکھی ہے کہ باورچی اور باور چن کھانا پکاتے ہوئے کھانا چکھ سکتے ہیں۔ مگر اس سے بڑھ کر یہ کہ معدہ بن صدقہ کی ایک روایت امام ابو عبداللہ سے لکھی ہے کہ حضرت فاطمہ اپنے بچوں کو رمضان کے مہینہ میں روٹی چبا چبا کر دیا کرتی تھیں۔ 29 بلکہ ان روایات پر بھی حمزہ وہ روایت ہے جس میں روزہ دار کے لئے پیاس بجھانے کا نسخہ بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امام ابو عبد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ روزہ دار کو پیاس لگے تو اس کے بجھانے کے لئے وہ انگوٹھی منہ میں ڈال کر چوسے۔ عملے یہ سب روایات فروع کافی کے صفحہ ۳۷۷ پر درج ہیں اور شید صاحبان کے لئے نہایت زبردست حجت ہیں۔ ان روایات کی موجودگی میں اس روایت پر اعتراض جسے خود اہل سنت کمزور اور ضعیف قرار دیتے ہیں مصنف ہفوات کے لئے کب جائز ہو سکتا ہے ؟ وہ ان احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ بقول ان کے ادنی امتی تو غبار سے بھی بے چین اور حضرت فاطمہ روٹیاں چبا چبا کر بچوں کو دیں اور خوب لطف اُڑائیں۔ آخر منہ میں اس قدر دیر روٹی چلانے سے ایک حصہ تو ان کے پیٹ میں بھی جاتا ہو گا۔