انوارالعلوم (جلد 9) — Page 364
انوار العلوم جلد 9 ۳۶ من التي وسلم سے قطعی طور پر منقطع تھا اور آپ اس سے بالکل محفوظ تھے۔ شاید مصنف ہفوات اس موقع پر یہ کہہ دیں کہ گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی تھی مگر آپ بہت قوی تھے اس لئے لئے آپ کے لئے یہ فعل درست نہیں ہو سکتا تھا مگر اول تو اس اعتراض کا جواب مذکورہ بالا بات میں آچکا ہے کہ آپ کی نسبت تو نہی کی علت جو ان میں بھی ثابت نہیں اس لئے آپ کے لئے کوئی شرط نہیں کہ آپ بڑھاپے میں ایسا کریں اور جوانی میں نہیں لیکن اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ مسئلہ شرعیہ ہے نہ کہ ایک احتیاطی حکم تب بھی اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ فتوی کی رو سے بوڑھے کی شرط ہے نہ کہ مضبوط بوڑھے یا کمزور بوڑھے کی۔ امام ابو عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ جن کا فتویٰ کافی میں درج ہے خود اپنی نسبت جو کچھ بیان کرتے ہیں وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کمزور بوڑھے نہ تھے بلکہ مضبوط تھے۔ مذکورہ بالا حدیث کے آخری حصہ میں آتا ہے كَيْفَ أَنْتَ وَالنِّسَاءُ قُلْتُ وَلَا شَيْئَ قَالَ وَلَكِنِّي يَا أَبَا حَازِمٍ مَا أَشَاءُ شَيْئًا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مِنِّي إِلَّا فَعَلْتُ إلا فَعَلْتُ ٤٣ ترجمہ - ( امام ابو عبد اللہ راوی سے پوچھتے ہیں) تیرا عورتوں کے متعلق کیا حال ہے؟ میں نے کہا بالکل بے طاقت ہوں فرمایا لیکن اے ابا حازم ! میں جو کچھ بھی چاہوں عورتوں سے کر لیتا ہوں۔ یعنی میری طاقت بالکل محفوظ ہے۔ پس معلوم ہوا کہ امام عبد الله کے نزدیک روزہ میں بوسہ لینا ہر ایک بوڑھے کو جائز ہے نہ کہ کمزور اور ناقابل بوڑھے کو۔ خلاصہ کلام یہ کہ روزہ دار کے لئے بوسہ لینا ہرگز منع نہیں ہے احادیث اور ائمہ اہل سنت واہل شیعہ کے فتاوی اسی کے مطابق ہیں اور قیاساً اور احتیاطا ایسے جو ان کے لئے جس کو اپنے نفس پر قابو نہ ہو اس امر کو روک دیا گیا ہے ورنہ یہ شرعی حکم نہیں ہے۔ تیسرا اعتراض مصنف ہفوات کا یہ ہے کہ حدیث میں جو یہ آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ میں اپنی بیویوں سے مباشرت کی اور یہ ایک سخت گناہ ہے۔ کیونکہ مباشرت اقرب بالجماع ہے جو بالکل حرام ہے۔ اللہ تعالی رحم کرے ان جہلاء پر جو بلا اس کے کہ خدا اور رسول کے کلام کے سمجھنے کی قابلیت رکھتے ہوں مذہب کے امور میں قیمہ بن جاتے ہیں اور اپنی نا سمجھی اور نادانی سے دین کے مسائل کو نہ سمجھ کر ان کے احتراق و اخراج کا فتوی دے دیتے ہیں۔ مباشرت کا لفظ جس سے صاحب ہفوات کو دھوکا لگا ہے وسیع معنے رکھتا ہے۔ اس کے معنی عورت کو ہاتھ لگانے اور اس کے ساتھ چھونے کے بھی ہیں اور اس کے معنی جماع کے بھی ہیں۔ لسان العرب میں لکھا ہے وَ مُبَاشَرَةُ الْمَرْأَةِ مُلاَ مَسَتَهَا وَ قَدْ يَرِدُ بِمَعْنِي الْوَطْيِ فِي الْفَرْجِ